جوہری ایران

سابق امریکی ایلچی اورایران کے درمیان مبینہ خفیہ روابط پر دفترخارجہ پر ریپبلکن کا دباو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے لیے امریکی صدر بائیڈن انتظامیہ کے خصوصی ایلچی رابرٹ مالے کی گذشتہ سال عہدے سے معطل کیے جانےکی تحقیقات کرنے والے ریپبلکن قانون سازوں نے ایسے شواہد سے پردہ اٹھایا ہےجن میں کہا گیا ہے کہ مالے نے حساس اور خفیہ دستاویزات ڈاؤن لوڈ کی تھیں اور اپنی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے انہیں امریکی حکومت سے باہر کے افراد کے ساتھ شیئر کیا تھا۔

’Semafor‘ تحقیقاتی رپورٹ سے واقف ذرائع نے بتایا کہ مالے اس وقت تہران تک بائیڈن انتظامیہ کی سفارتی رسائی کی قیادت کر رہے تھے جب گذشتہ سال اپریل میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیورو آف ڈپلومیٹک سکیورٹی نے ان کی سکیورٹی کلیئرنس اچانک واپس لے لی تھی۔’ایف بی آئی‘ نے اس بات کی تحقیقات شروع کیں کہ آیا مالے نے خفیہ معلومات کو غلط طریقے سے استعمال کیا ہے یا نہیں؟۔

کانگریس کی تحقیقات سے واقف لوگوں نے ’سیمفور‘ رپورٹ کے لیے بتایا کہ قانون سازوں کو معلوم ہوا کہ مالے نے ایک درجن کے قریب دستاویزات کو اپنی ذاتی ڈیوائسز میں منتقل کیا جس میں حساس، خفیہ اور غیر خفیہ معلومات شامل تھیں۔

ان کا خیال ہے کہ ان نوٹس میں سفارت کار کی معطلی سے پہلے کے مہینوں میں ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات ہوسکتی ہیں۔

سال 2022ء کے موسم خزاں کے دوران پولیس ہیڈ کوارٹر میں ایک نوجوان کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران اور دنیا میں پھیلنے والے وسیع سیاسی مظاہروں پر امریکی حکومت کے ردعمل سے متعلق دستاویزات بھی ہو سکتی ہیں۔

سینیٹ اور ہاؤس کی خارجہ امور کی کمیٹیوں میں سرفہرست دو ریپبلکنز ارکان جیمز رِش اور چیئرمین مائیکل میک کول نے اس ماہ کے شروع میں وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو مکتوب ارسال کیا جس میں انہوں نے ان مسائل کو اٹھایا اور ان کی تحقیقات کےدیگر نتائج پر توجہ دلائی تھی۔

انہوں نے استفسار کیا کہ "کیا مالے نے یہ معلومات کسی غیرمتعلقہ شخص کو ارسال کیں یا یہ دستاویزات کسی ایسے شخص کو بھیجنے کی کوشش کی جس کے پاس مناسب سکیورٹی کلیئرنس نہیں تھی؟"۔

میک کول اور رش نے چھ مئی کو اپنے مشترکہ خط میں بلنکن پر دباؤ ڈالتے ہوئے انہیں لکھا کہ "کیا ان افراد میں سے کوئی بھی ایرانی حکومت یا ایران انسٹی ٹیوٹ ایکسپرٹس انیشیٹو (IEI) سے وابستہ تھا؟"۔

سیمافور کی جانب سے گذشتہ سال کی جانے والی ایک تحقیقات میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح تہران نے 2014 سے شروع ہونے والے اپنے جوہری پروگرام اور دیگر قومی سلامتی کے معاملات پر ایران کے موقف کو مضبوط کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ پر امریکی اور یورپی ماہرین کے نیٹ ورک IEI کا استعمال کیا۔

رابرٹ مالے

تحقیقات میں IEI سے منسلک لوگوں کی گنتی کی گئی اور انکشاف کیا گیا کہ 2021ء میں خصوصی ایلچی بننے سے پہلے اور بعد میں ایران کے مسائل پر مالے کے ساتھ کس نے کام کیا یا تعاون کیا۔

محکمہ خارجہ اور ’ایف بی آئی‘ نے کانگریس یا پریس کے ساتھ مالے کی تحقیقات کے بارے میں کوئی ٹھوس تفصیلات شیئرنہیں کیں۔

اس ماہ بلنکن کو ایک ریپبلکن خط پہلی بار واشنگٹن پوسٹ کے ذریعہ رپورٹ کیا گیا تھا جس میں پہلی واضح سوال اٹھایا گیا کہ مالے نے کیا کیا ہوگا؟۔

بلنکن کو اپنے خط میں قانون سازوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ ایک غیر ملکی حکومت ممکنہ طور پر ایران نے مالے کے ذاتی آلات کو ہیک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہ وضاحت ہو سکتی ہے کہ کیوں ان کی کچھ سفارتی دستاویزات اور حکمت عملی 2023ء کے موسم بہار اور موسم گرما کے دوران ایران کے سرکاری میڈیا میں آنا شروع ہو گئی تھی۔

قانون ساز یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا مالے کی جانب سے ان دستاویزات کو باہر کے افراد بشمول حکومت کے ارکان یا IEI کے ساتھ شیئر کرنا یہ بھی بتا سکتا ہے کہ یہ معلومات تہران تک کیسے پہنچی ہیں؟۔

ریپبلکن قانون ساز اس ثبوت کو بھی واضح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مالے نے حساس اور خفیہ دستاویزات کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے بارے میں ’ایف بی آئی‘ کو استعمال کیا اور گمراہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں