غزہ کی سرحد پر سرنگوں کی موجودگی کا اسرائیلی دعویٰ جھوٹ: مصری ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج کی جانب سے رفح کراسنگ کے علاقے میں ایک سرنگ کو تباہ کرنے کے اعلان کے بعد بدھ کے روز ایک اعلیٰ مصری ذریعے نے مصر اور غزہ کی پٹی کی سرحد کے نیچے سرنگوں کی موجودگی کے بارے میں اسرائیلی میڈیا میں آنے والی خبروں کو مسترد کردیا ہے۔

قاہرہ نیوزچینل کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے اسرائیلی رپورٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل اپنی فوجی ناکامی کو چھپانے اور سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے رفح میں اپنی افواج کے حالات کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی پٹی کے ساتھ مصری سرحد پر سرنگوں کی موجودگی کے بارے میں جو خبریں دی ہیں اس میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ جھوٹ اسرائیلی حکومت کو درپیش بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے"۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے کہا کہ فورسز نے رفح کراسنگ سے 100 میٹر کے فاصلے پر ڈیڑھ کلومیٹر لمبی ایک سرنگ دریافت کی اور اس کے اندر ٹینک شکن میزائل، رائفلیں، دھماکہ خیز آلات اور دستی بم ملے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان فلاڈیلفیا کے محور کا مکمل آپریشنل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہ رفح شہر میں ایک پیچیدہ ماحول میں کام کر رہی ہے۔ صہیونی فوج نے کہا ہم نے فلاڈیلفیا کے پورے محور کا کنٹرول سنبھال لیا، حماس نے فلاڈیلفیا محور میں بنیادی ڈھانچہ قائم کیا ہے۔ رفح گزرگاہ کے علاقے میں ایک 1500 میٹر لمبی سرنگ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

فلاڈیلفیا پر مکمل کنٹرول

اسرائیلی اخبار ’’ ہارٹز‘‘ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحد کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا اور اسرائیلی فورسز نے علاقے میں کھلنے والی 82 سرنگوں کا کنٹرول بھی ہاتھ میں لے لیا ہے، ان سرنگوں کو بعد میں تباہ کرنے کے لیے ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

بفرزون علاقہ

اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نے بدھ کو کہا تھا کہ اسرائیلی فوج اب غزہ کی پٹی اور مصر کی سرحد کے ساتھ فلاڈیلفیا کے محور کے 75 فیصد حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔ مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے تحت فلاڈیلفیا محور کو "بفر زون" سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مصر کی سرحد پر واقع شہر رفح میں اسرائیلی فوجی آپریشن کے دو ہفتے بعد صہیونی فوج نے اس حصے کو بھی کنٹرول میں لے لیا ہے۔ اسرائیلی کنٹرول کے بعد اس بفرزون علاقے کی حیثیت اور امن معاہدے کے حوالے سے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔

رفح کے وسط تک رسائی

گزشتہ چند دنوں میں اسرائیلی افواج نے رفح کے وسط میں پیش قدمی کی اور فلاڈیلفیا کے آدھے سے زیادہ محور پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اس علاقے کو "صلاح الدین روڈ" بھی کہا جاتا ہے۔

کچھ روز قبل امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے دورہ تل ابیب کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع گیلنٹ نے سلیوان کو رفح میں اپنی زمینی حملے کو آگے بڑھانے کے ارادے اور تفصیلات سے آگاہ کیا تھا۔ اسرائیل کو امریکہ، عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے رفح پر حملے کے متعلق مسلسل خبردار کیا گیا تھا۔ تمام انتباہات کے باوجود اسرائیل نے رفح پر حملہ کرنے پر اصرار کیا تھا۔

فلاڈیلفیا کوریڈور سے 2005 میں دستبرداری

"صلاح الدین" یا فلاڈیلفیا کوریڈور کو 1979 میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت "بفر زون" سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل نے 2005 میں غزہ کی پٹی سے علیحدگی کے منصوبے کے تحت اس علاقے سے مکمل طور پر دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

"فلاڈیلفیا کوریڈور" غزہ کی پٹی کے اندر شمال میں بحیرہ روم سے لے کر جنوب میں مصری سرحد کے ساتھ کرم ابو سالم گزرگاہ (کریم شالوم کراسنگ) تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ کوریڈور لگ بھگ 14 کلومیٹر طویل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں