فلسطینی ریاست کو 'تسلیم کرنے کا امکان' میکرون کا فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات' پر زور

فرانس "اصلاح شدہ اور مضبوط فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کرتا ہے: میکرون کی محمود عباس سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانسیسی صدر عمانوئل میکرون کے دفتر نے بتایا کہ انہوں نے بدھ کو ایک فون کال کے دوران "فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے امکانات" کی پیشکش کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس پر زور دیا کہ وہ "ضروری اصلاحات نافذ کریں"۔

صدر کے ایلیسی محل نے کہا کہ میکرون نے اس بات پر "روشنی ڈالی کہ فرانس فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے حفاظتی ضمانتیں پیش کرتے ہوئے یورپی اور عرب شراکت داروں کے ساتھ امن کے مشترکہ نظریئے کی تعمیر" کرنے اور ساتھ ہی "فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے امکان کو ایک مفید عمل کا حصہ بنانے" کے لیے پرعزم ہے۔

مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کے ساتھ صدر میکرون کی فون کال سے متعلق تحریری بیان منگل کو اس وقت سامنے آیا جب فرانس کے ساتھی یورپی ممالک سپین، آئرلینڈ اور ناروے نے فلسطینی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیا۔ تینوں ممالک کے اس اقدام پر اسرائیل نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

میکرون کے وزیرِ خارجہ سٹیفن سیجورن نے بدھ کے اوائل میں فرانس کے ہمسایہ ممالک پر الزام لگایا کہ انہوں نے اسرائیل-فلسطین تنازع کا حل تلاش کرنے کے بجائے نو جون کے یورپی انتخابات سے قبل "سیاسی مؤقف اپنایا"۔

میکرون نے منگل کو کہا، وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ایسا اقدام "کسی مناسب موقع پر ہونا چاہیے" اور یہ "جذبات" کی بنیاد پر نہ ہو۔

ایلیسی پیلس کے بیان کے مطابق میکرون نے بدھ کو محمود عباس کو بتایا، فرانس "اصلاح شدہ اور مضبوط فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کرتا ہے جو فلسطینی عوام کے مفاد کے لیے غزہ کی پٹی سمیت پورے فلسطینی علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل ہو۔"

عباس کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے میکرون کے ساتھ بات چیت کے دوران فلسطینی حکومت کے "اصلاحات" کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے "فلسطینی ریاست کو تسلیم نہ کرنے والے یورپی ممالک سے اسے تسلیم کرنے" کا مطالبہ کیا۔

میکرون نے شہری ہلاکتوں کو "ناقابلِ برداشت" قرار دیا اور جنوبی غزہ کے رفح میں بے گھر لوگوں کے کیمپ پر بمباری کے لیے "فلسطینی عوام سے مخلصانہ تعزیت" پیش کی۔

انہوں نے محمود عباس کو بتایا، پیرس "اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں الجزائر اور اس کے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے" تاکہ ادارہ "رفح کے بارے میں مضبوط مؤقف اختیار کرے۔"

یاد رہے کہ سلامتی کونسل میں الجزائر کی حالیہ قرارداد کے مسودے میں اسرائیل سے رفح میں فوجی کارروائی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں