چینی صدر کا مشرق وسطیٰ پر بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چین کے صدر شی جن پنگ نے آج جمعرات کو بیجنگ میں چین - عرب تعاون فورم کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر عرب ممالک کے ساتھ اپنے "گہرے تعلقات" کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے چین اور عرب ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دینے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ پر بین الاقوامی امن کانفرنس کے انعقاد پر زور دیا۔

چینی صدر کے خطاب کے موقع پر چار عرب ممالک مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور تونس کے سربراہان اور وزرائے خارجہ بھی موجود تھے۔

صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ "جب بھی میں اپنے عرب دوستوں سے ملتا ہوں، مجھے اپنائیت کا گہرا احساس محسوس ہوتا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "چین اور چینی عوام اور عرب ممالک اور عوام کے درمیان دوستی قدیم اور طویل شاہراہ ریشم کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے تبادلے سے پیدا ہوئی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اور عرب ممالک اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے لیے زیادہ متوازن فریم ورک بنائیں گے جس سے دونوں فریقوں کو فائدہ پہنچے گا۔

غزہ کی جنگ غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی

غزہ کی جنگ کے حوالے سے چینی صدر کا کہنا تھا کہ ’جنگ غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی۔ انصاف مستقل طور پر غائب نہیں رہ سکتا اور دو ریاستی حل کو من مانی پر نہیں چھوڑا جا سکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ "چین مکمل خود مختاری کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور فلسطینیوں کی اقوام متحدہ میں مکمل رکن ریاست بننے کی کوشش کی تائید کرتا ہے"۔

چینی صدر نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے "عالمی امن کانفرنس‘‘ کے انعقاد پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں انصاف "ہمیشہ کے لیے غائب" نہیں رہ سکتا۔

"وسیع تربین الاقوامی امن کانفرنس"

چینی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق صدر شی نے بیجنگ میں عرب رہ نماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "مشرق وسطی ایک ایسی سرزمین ہے جس میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انصاف کو ہمیشہ کے لیے غائب نہیں ہونا چاہیے، ایک وسیع تر، زیادہ قابل اعتماد اور زیادہ موثر بین الاقوامی امن کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے اور چین ایسی کانفرنس کا مطالبہ کرتا رہے گا‘‘۔

اس موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا جبکہ متحدہ عرب امارات کے صدر الشیخ محمد بن زاید نے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے خطے کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔ بحرین کے فرمانروا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔

چینی صدر نے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی تمام کوششوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی نے کہا کہ چین غزہ میں انسانی بحران کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کے لیے اضافی 500 ملین یوآن فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ چین ’اونروا‘ کو غزہ میں فوری انسانی امداد کی فراہمی کے لیے تین ملین ڈالر کا عطیہ بھی دے گا۔

توانائی تعاون

چین ۔ عرب تعاون کے حوالے سے چینی صدر نے زور دیا کہ وہ عرب ممالک کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق صدر شی نے مزید کہا کہ "چین تیل اور گیس کے شعبوں میں عرب ممالک کے ساتھ سٹریٹجک تعاون کو مضبوط کرتا رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "چین تحقیق اور جدید توانائی کی ٹیکنالوجی اور آلات کی تیاری کے میدان میں عرب ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین 2026 میں چین اور عرب ممالک کے درمیان دوسرے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں