ڈونگھو کی اسرائیل کو نسل کشی کے الزام سےبچانے کی شرمناک کوشش ہے: نارمن فنکلسٹائن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سیاسیات کے امریکی پروفیسر اور دانشور نارمن فنکلسٹائن نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے سابق صدر جون ڈونگھو کے غزہ جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں نسل کشی کے بارے میں خیالات کو جھوٹ اور بے شرمی قرار دیا ہے۔

'العربیہ' کے رض خان کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ڈونگھو نے اپریل میں کہا تھا ' بین الاقوامی عدالت انصاف نے ایسے شواہد نہیں دیکھے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں ڈون گھو کا یہ کہنا سوائے بے شرمی اور شرمناکی پر مبنی جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ '

امریکی ماہر سیاسیات نے کہاعدالت نے محسوس کیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے انتہائی جائز اور بنیادی قابل احترام حقوق خطرے میں ہیں۔ عدالتی قانون کے مطابق اگرغزہ میں فلسطینیوں کے معقول حقوق خطرے میں ہوتے ہیں تو یہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب اسرائیل پوری 'خوش اسلوبی' سے ان کی نسل کشی کر رہا ہو۔'

انہوں نے کہا فلسطینی کی نسل کشی کا کیس بین الاقوامی عدالت کے سامنے ہے، یہ مقدمہ نسل کشی کے خلاف کنونشن کے تحت ہے۔ فلسطینی بین الاقوامی قانون کے تحت ایک محفوظ گروہ ہیں اور انہیں کنونشن کے تحت بھی تحفظ حاصل ہے۔ نیز یہ کہ سب سے بنیادی حق ہی زندگی کے تحفظ کا حق ہے، اس لیے فلسطینیوں کو ایک نسلی گروپ کے طور پر تحفظ ملنا ان کا بنیادی حق ہے۔'

جب عدالت ان کے حقوق کو معقول حقوق کے طور پر دیکھتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ غزہ کی موجودہ صورت حال میں یہ معقول حقوق فلسطینیوں کے ممکن نہیں ہو رہے ہیں۔ تو لازمی بات ہے کہ ان حقوق کی ممکنہ خلاف ورزی اور نسل کشی کا ارتکاب اسرائیل ہی کر رہا ہے۔ '

فنکلسٹائن نے انٹرویو کے دوران اپنی بات مکمل کرتے ہوئے دو ٹوک اور کھلے لفظوں میں کہا ' بین الاقوامی عدالت انصاف کے سابق صدر نے جو کچھ کہا ہے وہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ بے شرمی اور شرمناکی پر مبنی ایک جھوٹ ہے۔ ' (یہ انٹرویو اگلے دنوں میں نشر کیا جارہا ہے۔ )

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں