’’ہم گوشت نہیں روح بیچتے‘‘ الجزائر میں قربانی کے جانوروں کی اونچی قیمتوں کیخلاف مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لجزائر میں عید کی قربانیوں کی اونچی قیمتوں پر عدم اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور پھر ایک مہم کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ سوشل میڈیا کے صارفین نے مویشی منڈیوں کی صورت حال کو بیان کرنا شروع کیا اور اپنے تجربات بیان کرنا شروع کئے تو واضح ہوا مویشی منڈیوں میں صورتحال مضحکہ خیز اور شرمناک ہوچکی ہے۔

عید الاضحیٰ سے چند روز قبل الجزائر کے شہری مویشیوں کی قیمتوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ قربانی کے جانور ان کی قوت خرید سے بہت بلند ہوگئے ہیں۔

صارفین نے حد سے بڑھی ہوئی قیمتوں پر غصے کا اظہار تو کیا لیکن ساتھ ہی اس صورتحال پر قہقوں اور لطیفوں کے ذریعے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا تبصرے

سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے والوں میں سے ایک نے اس کا موازنہ کار مارکیٹ سے کردیا کیونکہ کار کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ بھیڑوں کی فروخت کی مشہور مارکیٹ میں فلمائی گئی ایک ویڈیو پر تبصرہ کیا اور بھیڑوں کا کاروں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بھیڑیں وارنٹی کے ساتھ ہیں یا اس کے بغیر فروخت ہو رہی ہیں۔ میں تو آٹو میٹک بھیڑ خریدنا پسند کروں گا۔ کچھ افراد نے کہا بھیڑوں کی جسامت کا اس کے خیالات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس قدر زیادہ قیمتیں ان بھیڑوں کی ذہانت کی نشاندہی کر رہی ہیں۔

مویشی فروخت کرنیوالوں کیخلاف مہم

قیمتوں کے متعلق مذاق اڑانے کا سلسلہ جاری رہا اور پھر یہ سلسلہ بھیڑ پالنے والوں کے خلاف مہم میں بدل گیا۔ ایک صارف نے کہا کہ میجھے ایک بھیڑ پالنے والا ملا اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ مینڈھے کا گوشت نہیں بلکہ ان کی روح بیچتا ہے۔ اس لیے اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک صارف نے کہا ہمیں بھیڑوں کی خریداری کا بائیکاٹ کردینا چاہیے۔

بھیڑ پالنے والوں اور گاہکوں کے درمیان تناؤ بدستور جاری ہے۔ خریداری کے خواہاں افراد قربانی کے جانوروں کی قیمت میں بے تحاشہ اضافے کا الزام لگا رہے ہیں۔ دوسری طرف بھیڑ پالنے والے نے اس معاملے کو خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور خشک سالی کی وجہ سے کم پیداوار کی وجہ سے مویشیوں کی خوراک بہت مہنگی ہوگئی ہے۔

بہت سے افراد نے اس معاملے کو بڑی تعداد میں واسطہ کاروں کی طرف منسوب کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ درمیان میں پڑنے والے افراد دیگر ملکوں اور ساحلی علاقوں میں ان کی فروخت کے لیے ملک کے اندر ان کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ واضح رہے الجزائر کے کئی علاقوں میں بھیڑ کی قیمتیں حالیہ دنوں میں 100 ہزار دینار سے تجاوز کر گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں