اسرائیل کو 'اونروا' کے خلاف اپنی مہم بند کرنا ہو گی: سربراہ فلپ لازارینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے ادارے ' اونراو' کے سربراہ فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو ' اورنروا' کے خلاف اپنی مہم کو روکنا ہوگا۔ انہوں نے اس امر کا اظہار نیو یارک ٹائمز میں لکھے اپنے آرٹیکل میں کیا ہے۔

ان کے تحریر کردہ مضمون کے مطابق غزہ کی جنگ نے اس ادارے کے لیے کھلی بے توقیری کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ حتیٰ کہ 'اونروا'اور اس کے ملازمین کے خلاف بد ترین حملوں کی صورت پیدا کر دی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ' اونروا' کے مراکز ، اس کی پناہ گزین اور بے گھر لوگوں کے لیے فراہم کردہ سہولیات اور آپریشنز کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔

سربراہ ' اونروا ' نے کہا کہ اب ان حملوں کو روکا جانا چاہیے اور ان حملوں کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی ' اونروا' غزہ میں بے گھر افراد اور پناہ گزینوں سے متعلق تقریبا تمام امور میں رابطہ کاری اور امداد کے لیے فعال کر دار کی حامل ہے۔ ماہ جنوری سےجب اسرائیل نے اس پر الزامات لگانا شروع کیے ہیں اور اسے ہر طرح سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سخت بحرانی حالت میں ہے۔

صرف غزہ میں ' اونروا' کے 13000 کارکن غزہ کے فلسطینی پناہ گزینیوں کی مدد کےلیے مامور ہیں ، اسرائیل نے ماہ جنوری میں 12 کارکنوں پر الزام لگایا تھا کہ وہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں شامل تھے۔

اسرائیل کے اس الزام کے سامنے آتے ہی اسرائیل کے سرپرست و اتحادی امریکہ سمیت بہت سے دوسرے ملکوں نے 'اونروا' کی امداد روک دی تھی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ ایکشن اتنا سرعت کے ساتھ تھا کسی ثبوت یا گواہی کا مطالبہ و انتظار کیے بغیر فنڈنگز روک کر اسرائیل کی خوشنودی پاتے رہے۔

تاہم بعد ازاں اقوام متحدہ کی تحقیقات میں یہ بات ثابت نہ ہوسکی۔ اس سلسلے مینفرانس کی سابق وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے اپنی فائنڈنگز دیتے ہوئے کہا 'اسرائیل نے ابھی تک اس معاملے میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں۔

لازارینی نے لکھا ہے 'اسرائیل کے حکام نہ صرف یہ کہ کھلے عام اس بین الاقوامی ادارے کو، اس کے مشنز کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ بلکہ الٹا ' اونروا ' کوہی دہشت گرد تنظیم ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا 'اونروا' پر مشرقی یروشلم میں الگ سے حملہ بھی موجود ہے۔ حتی کہ رفح، جنوبی غزہ میں بھی ' اونروا ' کو نشانہ بنایا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں