غزہ کی صورتحال، بیلجیم کی یونیورسٹی نے تمام اسرائیلی یونیورسٹیوں سے روابط ختم کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیلجیم کی گینٹ یونیورسٹی نے اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدات ختم کر دیے ہیں یہ اعلانات جمعہ کے روز کیے گئے ہیں۔ یونیورسٹی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی انسانی حقوق سے متعلق پالیسی اب ایسی نہیں رہی ہے کہ یونیورسٹی اب اس کے ساتھ اپنے تعلقات جاری رکھے۔

واضح رہے گینٹ یونیورسٹی میں اسرائیل کی غزہ جنگ کا مخالف طلباء نے اپنا احتجاج کئی ہفتوں سے جاری رکھا ہوا ہے بعض طلباء نے مبینہ طور پر یونیورسٹی کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا ہوا ہے یہ طلباء ایک طرف یونیورسٹی بند کر نے کا مطالبہ کیا ہوا ہے دوسری طرف ان کا مطالبہ یہ ہے کہ یونیورسٹی اپنے معاہدات اسرائیل کے ساتھ فوری طور پر ختم کرے۔

گینٹ یونیورسٹی میں ایک تحقیق کے مطابق اسرائیل کے تعلیمی شعبے کے اسرائیلی حکومت اور اسرائیلی فوج کے ساتھ تعلقات ہیں۔ جو کہ یونیورسٹی کی پالیسی کے متصادم بات ہے اس انویسٹی گیشن میں بین الاقوامی عدالت کی طرف سے یونیورستی نے رولنگ کو پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں بھی غزہ کی حالت بد ترین ہو گئی ہے۔

گینٹ یونیورسٹی نے دو ہفتے پہلے بھی اسرائیل کے ساتھ 18 کی تعداد میں جاری معاہدات کو ختم کردیا ہے۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ گینٹ یونیورسٹی 6 غیر تعلیمی اداروں کے ساتھ اپنے معاہدات جاری رکھے گی کیونکہ ان کا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے متعلق کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی ہے۔

گینٹ یونیورسٹی کے احتجاجی طلباء نے شروع میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن انہوں نے یہ مطالب بھی کیا ہے کہ اس میں توسیع کر کے ان 6 اسرائیلی غیر تعلیمی اداوں کے ساتھ بھی معاہدات ختم کیے جائیں اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس احتجاج کو جاری رکھیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں