جنرل اسمبلی میں مرحوم ایرانی صدر رئیسی کے لیے متنازع اعزاز، امریکہ کا بائیکاٹ

جنرل اسمبلی میں ایک منٹ کی خاموشی کے بعد سیکرٹری جنرل گوتریس نے ایک بار پھر لواحقین تعزیت کا اظہار کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران کے مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کو ایک متنازع "اعزاز" کے لیے نامزد کردیا۔ اس اعزاز کا امریکہ نے بائیکاٹ کردیا۔ جنرل اسمبلی میں ایک منٹ کی خاموشی کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریس نے صدر کے لواحقین اور 19 مئی کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ ایرانی عوام کے ساتھ بھی دوبارہ تعزیت کا اظہار کیا۔

گوتریس نے کہا کہ اقوام متحدہ امن، ترقی اور بنیادی آزادیوں کی تلاش میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ اپنے چارٹر کے ذریعے امن، سلامتی، پائیدار ترقی اور سب کے لیے انسانی حقوق کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد گوتریس کی طرف سے تعزیت کے بعد ان کے ترجمان نے ان کے موقف کو درست قرار دیا۔

سٹیفن دوجارک نے کہا کہ سکریٹری جنرل نے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال بالخصوص خواتین کے بارے میں اپنی گہری تشویش کا اظہار کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ہے۔ لیکن یہ چیز انہیں اس تنظیم کے رکن ملک کے سربراہ اور وزیر خارجہ کی موت پر تعزیت پیش کرنے سے نہیں روکتی۔

یاد رہے جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کے رکن ریاست کے ہر سربراہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اہتمام کرتی ہے جو اپنے عہدے پر رہتے ہوئے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ گزشتہ فروری میں نمیبیا کے صدر ہیگ گینگوب کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا۔ 2011 میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔

اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی جانب سے پاکستانی سفیر منیر اکرم نے ایران کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی تبدیلی میں صدر رئیسی کے کردار کی تعریف کی ۔ انہوں نے کہا ہم اسلامی تعاون تنظیم کے وژن اور مشن خاص طور پر اس کے بنیادی مسئلے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کی بحالی کے لیے سابق صدر رئیسی کی تاریخی شراکت سے مطمئن ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حادثہ میں جاں بحق  ایرانی صدر رئیسی  کے لیے اعزازی اقدامات 01

اس خراج تحسین کے دوران مغربی ملکوں کے کسی نمائندے نے کوئی بات نہیں کی۔ فرانس اور امریکہ جیسے بعض ملکوں نے اپنے نمائندے بھی نہیں بھیجے۔ امریکی وفد کے ترجمان نیٹ ایونز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ابراہیم رئیسی بہت سی ہولناک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے دور حکومت میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

اس دوران اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے ایرانی حکومت کے درجنوں مخالفین نے مظاہرہ کیا اور "اقوام متحدہ کو شرم کرو" کے نعرے لگائے۔ اسرائیلی سفیر گیلاد اردان نے بھی اس اعزاز کی کھلی مذمت کی۔ انہوں نے چند روز قبل ’’ایکس‘‘ پر کہا تھا اقوام متحدہ کو مظالم کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا لیکن آج یہ ان ظالموں کو عزت دیتا ہے جو بڑے پیمانے پر قتل عام کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں