جیل میں قید الیکشن لڑنے والا سکھ علیحدگی پسند مشرقی پنجاب کے ووٹروں کی توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت کی ریاست آسام میں ایک انتہائی سیکیورٹی سے لیس جیل میں اکتیس سالہ سکھ علیحدگی پسند امرت پال سنگھ لوک سبھا کے انتخاب میں حصہ لے رہا ہے جسے مشرقی پنجاب میں اپنے انتخابی حلقے سے تقریباً 3 ہزار کلومیٹر دور جیل میں بند ہونے کے باوجود ووٹرز کی اچھی حمایت مل سکتی ہے ۔

امرت پال سنگھ کے انتخابی مہم کے نگران کا کہنا ہے کہ جیل میں قید اس سکھ رہنما کی الیکشن مہم اور ممکنہ کامیابی نئی دہلی سرکار کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے ۔ اس کی جیت کی صورت میں سکھوں کی عسکریت پسندی کے حق میں ایک بار پھر عوام کی مہر لگ جائے گی۔

واضح رہے کہ ریاست آسام کی جیل میں قید سکھ علیحدگی پسند مشرقی پنجاب میں اپنے حلقہ انتخاب میں کھدور صاحب سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے لیکن اس کے باوجود اس کے پوسٹرز ہر گاؤں اور قصبوں میں نمایاں نظر آرہے ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ وہ تلواروں کے ساتھ کھڑا ہے ۔

امرت پال سنگھ کو پچھلے سال اس وقت گرفتار کرلیا گیا تھا جب اس کے سینکڑوں حامیوں نے تلواریں پکڑ کر اور بندوقیں اٹھا کر ایک پولیس اسٹیشن پر یلغار کردی تھی اور اپنے ایک ساتھی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے

مشرقی پنجاب میں اور اس سے سے باہر عام طور پر سمجھی اور کہی جارہی ہے کہ اس الیکشن میں امرت پال کی جیت کی صورت میں 1970 اور 80 کی دہائی کی سکھ علیحدگی پسند مسلح تحریک کو ایک بار پھر عوامی حمایت اور سند مل سکتی ہے۔

اس بارے میں حمایت کا فیصلہ یکم جون کو ہو جائے گا ۔ یہ بات امرت پال سنگھ کے 61 سالہ باپ ترسیم نے اس کے حلقے میں موجود ہوتے ہوئے کہی ہے ۔ اس کے والد نے کہا کہ ہم یہ پیغام ان سب کو دینا چاہتے ہیں جو اس کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں نیز سکھ کمیونٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ترسیم سنگھ گندم کے کھیتوں کے درمیان اور نہر کے کنارے ایک سکھ گردوارہ میں موجود تھا ۔ جن سکھوں کو عسکریت پسندی کے دوران قتل کردیا گیا تھا ان کی تصاویر اور نام گردوارے میں شہداء کا لفظ لکھ کر آویزاں کیے گئے تھے ۔ یاد رہے سکھ برادری بھارت کی مشرقی پنجاب میں عسکریتی آبادی ہے جبکہ مجموعی طور پرصرف دوفیصد بتائی جاتی ہے۔ 1970 کی دہائی سے سکھ اپنے الگ ملک خالصتان کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔

سکھ سونامی

مشرقی پنجاب میں سکھوں کی انتخابی مہم منشیات کے مسئلے کے خلاف پوری طرح توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں نیز سکھ عسکریت پسندوں کو جیلوں سے رہا کروانے کے لیے اور سکھوں کی شناخت کر وانے کے لیے ووٹرز کو متوجہ کر رہی ہے ۔ لیکن امرت پال سنگھ کے والد اس کے لیے بہت احتیاط کر رہے ہیں کے خالصتان کا نام اپنے زبان پر نہ لائیں ۔

یمان سنگھ کھارا 27 سالہ سکھ وکیل ہیں ان کا کہنا ہے کہ جو بھی امرت پال سنگھ کے خلاف کھڑا ہوگا سونامی اسے بہا لے جائے گا ۔ سکھ برادری کے رہنما کھدور صاحب کے اس تاریخی انتخابی حلقے سے الیکشن لڑنے پر قائل کرتے ہیں کیونکہ یہ حلقہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔سکھ برادری میں ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو پاکستانی سرکار کو ہندوستانی سرکار سے زیادہ اپنا خیرخواہ تسلیم کرتے ہی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار منجیت سنگھ مننا جو کہ امرت پال سنگھ کا مدمقابل امیدوار ہیں کہتے ہیں کہ امرت جیت نہیں سکھے گا حالانکہ اس کے ساتھ عوامی حمایت موجود ہے ۔کیونکہ لوگ عسکریت پسندی کو دیکھ چکے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ایسے دوبارہ واپس لائیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں