ٹرمپ ٹرائل

جیوری نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’ہش منی‘ کیس کے تمام 34 جرائم میں قصوروار قرار دے دیا

فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب صدراتی انتخاب میں چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں، جن میں ٹرمپ ریپبلکین پارٹی کی جانب سے ممکنہ امیدوار ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیویارک میں 12 رکنی جیوری نے ’ہش منی‘ کیس میں قصوروار قرار دے دیا ہے۔ فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ٹرائل کو غیر شفاف قرار دیا اور کہا کہ جج متعصبانہ رویہ رکھتے تھے۔

جیوری نے دو روز میں 11 گھنٹے سے زائد وقت تک اس معاملے کی سماعت کی جس کے بعد چند منٹوں میں متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک وکیل نے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اپیل دائر کریں گے۔

ٹرمپ پر الزام کیا تھا؟

ٹرمپ پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک وقت میں اپنے سیاسی فکسر، مائیکل کوہن کو 2016 کے انتخابات سے پہلے، پورن فلموں کی اداکارہ اسٹورمی ڈینیئلز کو ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر ادا کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ ڈینیئلز کو ان کے اس دعویٰ پر خاموش کیا جا سکے کہ ان کا ٹرمپ کے ساتھ ایک رات کا جنسی تعلق قائم ہوا تھا۔

ٹرمپ امریکہ کی 250 سالہ تاریخ کے ایسے پہلے سابق امریکی صدر بن گئے ہیں جو جرم کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ ٹرمپ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔

تاریخی فیصلہ

77 سالہ رپبلکن ٹرمپ جنہیں ضمانت کے بغیر رہا کر دیا گیا تھا، اب ایک مجرم ہیں، یہ ایک ایسے ملک میں پہلی بار تاریخی اور چونکا دینے والا واقعہ ہے جس کے صدر کو اکثر ’دنیا کا سب سے طاقتور شخص‘ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر میں صدر جو بائیڈن کے خلاف اپنا انتخابی مقابلہ جاری رکھنے سے نہیں روکا گیا ہے حتیٰ کہ جیل جانے کی صورت میں بھی نہیں۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق فکسر مائیکل کوہن نے گواہی دی ہے کہ ٹرمپ نے 2016 کے انتخابات کے آخری ہفتوں میں سٹورمی ڈینیئلز کو ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کی خفیہ ادائیگی کی منظوری دی تھی، جب ٹرمپ کو جنسی بدسلوکی کے متعدد الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مائیکل کوہن نے گواہی دی کہ انہوں نے ادائیگی کی، اور ٹرمپ نے قانونی فیس کی صورت میں انہیں ماہانہ ادائیگیوں کے ساتھ معاوضہ دینے کی منظوری دی۔

مقدمے کی سماعت میں شریک نیو یارک کے ایک ریٹائرڈ جج جارج گراسو نے کہا کہ ’ججوں کو فیصلے تک پہنچنے کے لیے نسبتاً کم وقت درکار تھا جو اس بات کی علامت ہے کہ ان کے خیال میں کوہن کی گواہی کے حق میں کافی ثبوت موجود ہیں۔‘

فیصلے پر ٹرمپ کا ردعمل

ٹرمپ نے فیصلہ سن کرفوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا اور عدالت میں کندھے جھکائے خاموش بیٹھے رہے۔ جیوری کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے کے بعد ٹرمپ نے فوراً اپنا دفاع کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ایک بہت ہی معصوم شخص ہوں۔‘ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’اصل فیصلہ‘ رائے دہندگان کی طرف سے آئے گا۔ انہوں نے اس مقدمے کو ’دھاندلی زدہ‘ اور ’ذلت آمیز‘ قرار دیا ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب صدراتی انتخاب میں چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں، جن میں ٹرمپ ریپبلکین پارٹی کی جانب سے ممکنہ امیدوار ہیں۔

یہ فیصلہ ملواکی میں ریپلکن نیشنل کنونشن سے چند ہفتے پہلے آیا ہے جہاں ٹرمپ کو پانچ نومبر کے انتخابات میں ڈیموکریٹک صد جو بائیڈن کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی پارٹی کی جانب سے باضاطہ طور پر نامزدگی ملنے والی ہے۔

صدر بائیڈن کا ردعمل

ادھر بائیڈن کی انتخابی مہم نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ٹرمپ نے ہماری جمہوریت کے لیے جو خطرہ پیدا کیا ہے وہ پہلے کبھی اس سے زیادہ نہیں تھا۔‘

رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور 81 سالہ جوبائیڈن ایک سخت صدارتی دوڑ میں بندھے ہوئے ہیں، اور رائٹرز/ اِپسوس پولنگ کے مطابق اس فیصلے سے ڈونلڈ ٹرمپ آزاد اور ریپبلکن ووٹروں کی کچھ حمایت کھو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں