رفح کراسنگ انتظام: حماس کے سوا فلسطینی گروپوں اور یواین کو شامل کرنیکی اسرائیلی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قاہرہ میں العربیہ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے مصر کو رفح کراسنگ کے انتظام میں اقوام متحدہ اور حماس سے وابستہ نہ رہنے والی فلسطینی جماعتوں کو شریک کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ رفح کراسنگ کے انتظام اور سرحدی بحران پر بات چیت کے لیے ایک امریکی وفد اگلے ہفتے قاہرہ پہنچے گا۔ واشنگٹن نے قاہرہ کو رفح کراسنگ پر اسرائیلی موجودگی کی اجازت نہ دینے کے لیے اپنی حمایت سے آگاہ کر دیا ہے۔

سہ فریقی امریکی مصری اسرائیلی اجلاس

یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب جمعرات کو امریکی ویب سائٹ ’’ایکسیوس‘‘ نے اسرائیلی اور امریکی حکام کے حوالے سے کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس آئندہ ہفتے قاہرہ میں سہ فریقی امریکی-مصری-اسرائیلی اجلاس کے انعقاد کی کوشش کر رہا ہے۔ اجلاس کا مقصد رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے اور سرحد کو محفوظ بنانے پر بات چیت کرنا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سہ فریقی اجلاس میں اہم مسائل میں سے ایک یہ منصوبہ ہوگا کہ رفح کراسنگ کی فلسطینی جانب کو اسرائیلی فوج کی موجودگی کے بغیر دوبارہ کیسے کھولا جائے۔

نیوز سائٹ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے مزید کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی کو مطلع کیا کہ رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں ٹرکوں کی آمدورفت دوبارہ شروع نہ کی گئی تو واشنگٹن قاہرہ کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنائے گا۔ قومی سلامتی کونسل کے ایک سینئر اہلکار کی قیادت میں ایک امریکی وفد چند دنوں میں مصر کا دورہ کرے گا۔

مصری ایوان صدر نے گزشتہ جمعے کو اعلان کیا تھا کہ السیسی اور بائیڈن نے انسانی امداد اور ایندھن کی مقدار کی فراہمی کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ یہ امداد عارضی بنیادوں پر کرم ابو سالم گزرگاہ سے غزہ پہنچائی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں