سنگاپورکے لگژری شنگریلا ہوٹل میں امریکہ اور چین کے درمیان شدید تنازعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعہ کو سنگاپور میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور ان کے چینی ہم منصب ڈونگ جون کے درمیان غیر معمولی ملاقات میں تائیوان پر گہرے اختلافات دیکھنے میں آئے۔

اس تناظرمیں چینی وزارت دفاع کے ترجمان ووکیان نے شنگریلا سکیورٹی ڈائیلاگ سمٹ کے موقع پر صحافیوں کو جاری بیان میں تصدیق کی کہ چینی وزیر دفاع ڈونگ جون اور ان کے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن کے درمیان ملاقات ہوئی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ جمعہ کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات "مثبت، عملی اور تعمیری" تھی۔

ترجمان نے کہا کہ ملاقات میں تائیوان کے مسائل، روس اور یوکرین کے درمیان جنگ اور غزہ کی پٹی میں جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ڈونگ نے آسٹن کو متنبہ کیا کہ امریکہ کو تائیوان کے ساتھ چین کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ اس جزیرے کا انتظام جمہوری انداز میں چل رہا ہے جسے بیجنگ اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔

چینی ترجمان نے انکشاف کیا کہ چینی وزیر نے اپنے امریکی ہم منصب کو بتایا کہ تائیوان کی حمایت میں واشنگٹن کے اقدامات جسے بیجنگ اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے، ’ون چائنا اصول‘ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے کہا کہ سیکریٹری آسٹن نے سنگاپور میں اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے دوران چین کی عسکری سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

وزیردفاع نے آبنائے تائیوان میں چینی پیپلز لبریشن آرمی کی حالیہ ’اشتعال انگیز‘ سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ عوامی جمہوریہ چین کو تائیوان میں سیاسی عمل دخل سے گریز کرنا چاہیے جو کہ ایک معمول کے جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ ایئر فورس میجر جنرل پیٹرک رائڈر نے میٹنگ کے بعد ایک بیان میں کہا کہ یہ زبردستی اقدامات کرنے کا ایک فطری بہانہ ہے۔

امریکی وفد کے ایک رکن نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ یہ ملاقات چین کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر 1:00 بجے سے کچھ دیر قبل سنگاپور کے دارالحکومت کے پرتعیش شنگریلا ہوٹل میں ہوئی۔

یہ میٹنگ شنگریلا سکورٹی فورم کے موقع پر ہوئی۔ اس فورم میں ہر سال دنیا بھر سے وزرائے دفاع شرکت کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں یہ فورم امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کے اتار وچڑھاؤ کا ایک پیمانہ بن گیا ہے۔

تائیوان سے متعلق تنازعہ جسے واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے اور جسے چین اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے، دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان کئی تنازعات میں سب سے نمایاں ہے۔

نیز بیجنگ اس بات پر ناراض ہے کہ واشنگٹن ایشیا پیسفک خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو گہرا کر رہا ہے جن میں فلپائن خاص طور پرشامل ہے۔

حالیہ برسوں میں چین نے متنازعہ جنوبی بحیرہ چین میں اپنے دعووں کے حوالے سے اپنا لہجہ سخت کیا ہے، جس میں مصنوعی جزیروں کی تعمیر اور فوجی مراکز کا قیام شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں