فلیپو گرانڈی کی نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے عالمی بحران پر سلامتی کونسل پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے سربراہ نے جمعرات کو جنگ اور ظلم و ستم سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر سلامتی کونسل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں 114 ملین لوگ اپنے گھروں سے فرار ہو گئے۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے سلامتی کونسل کو بتایا، "اگلے مہینے ہم ان اعداد و شمار کو تازہ کریں گے۔ یہ پہلے سے زیادہ ہوں گے۔" انہوں نے اکتوبر میں آخری مرتبہ اعداد و شمار دینے کے بعد سے سلامتی کونسل کی عدم فعالیت پر افسوس کا اظہار کیا۔

بین الاقوامی قانون کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں اور انسانی ہمدردی کے کارکنان پر دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے گرانڈی نے کہا، "سات ماہ گذر چکے ہیں لیکن صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی -- بلکہ یہ بدتر ہو گئی ہے۔"

گرانڈی نے غزہ، یوکرین، سوڈان، جمہوریہ کانگو، میانمار اور "کئی دوسرے مقامات" پر ہلاک شدہ دسیوں ہزار افراد کی طرف اشارہ کیا۔

ویٹو کے اختیار کے حامل مستقل اراکین کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے سلامتی کونسل دیرینہ تقسیم کا شکار ہے جس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "اس ادارے کی بے آہنگ اور متضاد آوازوں کا مطلب یہ ہے کہ آپ دنیا بھر میں افراتفری کے وسیع تر انتشار و تضاد کی صدارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

گرانڈی نے مزید کہا، "اب بھی بہت دیر نہیں ہوئی اور ہم جنگ کی لعنت سے لاتعداد لاکھوں مزید لوگوں کو بچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں