امارات کی مدد سے روس اور یوکرین کے درمیان 150 جنگی قیدیوں کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس اور یوکرین نے دو طرفہ معاہدہ کے بعد ایک دوسرے کے جنگی قیدیوں کی رہائی کی ہے۔ تقریبا چار ماہ کے وقفے کے بعد دونوں طرف سے 150 جنگی قیدی رہا کیے گئے ہیں۔

دونوں طرف کے جنگی قیدیوں کی رہائی کا یہ معاملہ متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ممکن ہوا ہے۔ جس کے ساتھ ہی 150 جنگی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

اس موقع پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس نے 75 یوکرینی قیدیوں کو واپس بھیج دیا ہے۔ ان رہائی پانے والے قیدیوں میں چار شہری جبکہ باقی فوجی اہلکار شامل ہیں۔

دوسری جانب روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے یوکرین نے متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں 75 افراد کو ان کے حوالے کر دیا ہے۔ یوکرین کی جنگی قیدیوں سے متعلق کمیٹی نے رہائی پانے والوں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ جن میں وہ قومی پرچم میں لپٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

کمیٹی کے مطابق سنیک آئی لینڈ کے 19 فوجیوں کو روسی قید سے چھڑا کر لایا گیا ہے۔ بحیرہ اسود میں یہ ایک چھوٹا چٹانی حصہ ہے جو جنگ کے شروع میں یوکریننی دفاع کی علامت بن گیا تھا۔ اس علاقے میں یوکرینی فوجیوں نے روسی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔

کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ تبادلہ کے اس معاہدے کے تحت 212 یوکرینی فوجیوں کی لاشیں بھی روس نے حوالے کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں