ترکیہ کے ڈرون حملے، شام میں امریکی حمایت یافتہ کرد 4 جنگجو ہلاک ،11 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کرد فورسز کے ترجمان نے کہا ہے کہ جمعہ کی شام شمال مشرقی شام کے علاقے میں ترکیہ کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں چار امریکی حمایت یافتہ جنگجو مارے گئے جبکہ گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

امریکی حمایت یافتہ کرد شامی جمہوری فورسز پر یہ حملے ترک صدر کے بیان کے ٹھیک ایک دن بعد ہوئے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ایس ڈی ایف کے خلاف کارروائی سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹے گی۔ ایس ڈی ایف کی طرف سے شمال مشرقی شام میں مقامی انتخابات کروانے کی کوشش کی تو کارروائی کریں گے۔

ان کا الزام ہے کہ اس کرد گروپ کے تعلقات ترکیہ میں موجود کرد دہشت گردوں سے ہیں۔ ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں نے اس کے آٹھ مقامات کو نشانہ بنایا۔ جبکہ عام شہریوں کی گاڑیوں اور گھروں کو بھی شمالی شہر قمیشلی کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ نیز ترکیہ کی جانب سے یہ حملے کوئی نئی بات نہیں ہے۔

کرد ہلال احمر نے کہا 'اس کے رضاکار متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم اس کی ایک ایمبولینس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔' ہلال احمر نے مزید بتایا کہ یہ حملہ قمیشلی کے مغربی علاقہ عمودہ میں کیا گیا۔ تاہم ترکیہ کی جانب سے اس واقعہ پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

یاد رہے کہ کردوں کی قیادت میں قائم خود مختار انتظامیہ جو شام کے شمالی اور مشرقی علاقوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس نے 11 جون کو میونسیپل کے انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے۔

مئیرز کے انتخاب کے لیے ووٹنگ حساکیح، رقہ، دئیر، ایلزور کے صوبوں کے علاوہ حلب کے مشرقی حصوں میں ہوگی۔

جمعہ کے روز اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 'ہم موجودہ حالات کو شمال مشرقی شام میں انتخابات کے لیے موزوں نہیں سمجھتے ہیں۔'

اس تبصرہ کا عین اسی موقع پر سامنے آنا کرد قیادت کو اس وقت ایک پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ الیکشن نہ کروائے جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں