جنگ بندی کا مجوزہ معاہدہ، سعودی وزیر خارجہ کی امریکی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن نے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

سعودی خبر رساں ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق ٹیلی فونک رابطے میں دونوں وزرائے خارجہ نے غزہ کی صورتحال اور امریکی صدر جو بائیڈن کے تجویز کردہ معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے فوری جنگ بندی، اسرائیلی قابض افواج کے مکمل انخلا اور شہریوں کو فوری امداد کی فراہمی کے لیے سعودی عرب کی حمایت کا اظہار کیا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسرائیلی جارحیت روکنے اور جنگ بندی کے علاوہ انسانی امداد کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی تائید کی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی بحران کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی نئی تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا نئی تجویز تین مراحل پر مبنی ہے اور اس میں مستقل جنگ بندی بھی شامل ہے۔

بائیڈن نے مشرق وسطیٰ کے بارے میں بات کرتے ہوئے خطاب میں کہا کہ تجویز کا پہلا مرحلہ چھ ہفتوں پر محیط ہے اور اس میں مکمل جنگ بندی اور رہائشی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد بے گھر فلسطینیوں کی اپنے گھروں کو واپسی شامل ہے۔

پہلے مرحلے کے دوران اسرائیل دوسرے مرحلے تک پہنچنے کے لیے حماس کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ دوسرے مرحلے میں جنگ بندی کے مستقل خاتمے، باقی رہنے والے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

تیسرے مرحلے میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کا ایک بڑا منصوبہ ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں