فرانس: پریس کارڈ پر بے حجاب تصویر کی شرط، مسلمان صحافی معاملہ چیلنج کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مراکش سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی نے پیرس میں فرانس کے اس دفتری ضابطے کو چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کے تحت انہیں سر پر دوپٹہ یا چادر اوڑھ کر بنوائی گئی اپنی تصویر اپنے پریس کارڈ پر لگانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

منال فقیہی نے کہا ہے کہ ان کی پریس کارڈ بنانے کی ایک درخواست کو محض اس لیے مسترد کر دیا گیا ہے کہ انہوں نے پریس کارڈ بنانے کے لیے اپنی معمول کی تصویر بھیجی دی تھی جس میں وہ اپنے سر کو سکارف سے ڈھانپے ہوئے ہیں۔

صحافتی کارڈ نہ بننے کی وجہ سے سے ان کی پیشہ ورانہ مصروفیات اور فرائض کی ادائیگی میں مشکلات آرہی ہیں۔ اور وہ بطور جرنلسٹ اپنی ذمہ داریں انجام نہیں دے پا رہی ہیں۔۔ وہ کارڈ کی عدم موجودگی کے باعث روز مرہ کی تقریبات اور احتجاجی مظاہروں کو کور کرنے سے قاصر ہیں۔ خدشہ ہے کہ اس طرح ان کا بطور صحافی کنٹریکٹ ختم ہو جائے گا۔

25 سالہ منال فقیہی نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' روئٹرز ' سے بات کرتے ہوئے کہا ' ہمیں اسی طرح قبول کیا جائے جس طرح کے ہم ہیں۔ اس طرح کی پابندیاں لگانے سے ایک حجاب کرنے والی خاتون کو پیشہ ورانہ میدان میں پہلے ہی مرحلے پر امتیازی سلوک کا سامناہو جاتا ہے۔ '

منال فقیہی تعلیم کے لیے پانچ سال پہلے مراکش سے فرانس آئی تھیں۔اب وہ ایک صحافی ہیں ۔ مگر ان کا کارڈ بنانے سے محض اس لیے انکار کر دیا گیا ہے کہ ان کی تصویرننگے سر نہیں بنوائی گئی ہے۔

فرانس میں قواعد بنائے گئے ہیں کہ کسی خاتون کا پاسپورٹ سر کو ڈھانپی ہوئی تصویر کے ساتھ نہیں بنایا جاتا ہے۔ برطانیہ اور دوسرے کئی یورپی ملکوں میں اس انساسی آزادی کا احترام آج بھی

کیا جاتا ہے کہ ایک خاتون چاہے تو اپنا سر سکارف سے ڈھانپے رکھے۔جبکہ فرانس میں یہ آزادی اور اختیار ایک خاتون کے پاس نہیں رہنے دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے حجاب لینا چاہے تو وہ لے سکے۔ برطانیہ میں اس آزادی کو ایک خاتون کی شخصی اور مذہبی آزادی کا تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ کہ وہ یہ حق استعمال کر سکتی ہے۔

تاہم فرانس میں صحافیوں کے لیے متعلق فورم ' سی سی آئی جے پی' اس معاملے میں ابھی تک تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔ جبکہ اس مراکشی خاتون صحافی کہنا ہے کہ 'سی سی آئی جے پی ' کو چاہیے کہ اس امتیازی قانون کو ختم کرے۔ یہ کارڈ جاری کرا سکنا ایک صحافی کا پیشہ ورانہ حق ہے۔

خاتون صحافی نے بھی کہا ہے کہ اگر اسے مقامی طور پریہ آزادی واپس نہ ملی کہ وہ جس طرح چاہے اس ڈھب پے زندگی گذار سکے تو وہ انتظامی عدالت سے رجوع کر ے گی۔ خیال رہے فرانس نے پاسپورٹ میں خواتین کی تصاویر کے معاملے میں کوئی وجہ بتائے بغیر یہ پابندی لگا رکھی ہے۔

یہ آزادی اس کے باوجود مسلمان خواتین کو نہیں دی گئی کہ وہ چاہیں تو اپنے دین کے مطابق اپنا سر ڈھانپ سکیں کہ مسلمان فرانس میں سب یورپی ملکوں سے زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ یہ قانون ملک میں سیکولرزم کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ جس کے بارے میں فرانس کے صدر میکرون کا کہنا ہے کہ فرانس میں سیکولرزم کو مسلمانوں سے خطرہ ہے۔ خصوصاً سر ڈھانپنے والی خواتین سے سیکولرزم خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

اسی لیے سرکاری ملازمین ، سکولوں اور تعلیمی اداروں کی طالبات سے اپنی مرضی کے مطابق سر ڈھانپنے کا حق واپس لے لیا گیا ہے۔ تاہم غیر سرکاری کارکنوں پر اس نوعیت کی کوئی قانونی پابندی نہیں لگائی گئی کہ نجی اداروں میں کام کرنے والی خواتین لازماً سر کو ننگا رکھیں ۔

2023 میں فرانس کی بار کونسل نے خاتون صحافیوں کو سر ڈھانپنے سے روک دیا تھا۔ اسی طرح فرانس میں میڈیا ورکرز کو بھی کوئی ایسی شناخت اختیار کرنے کا حق نہیں ہے جو مذہبی شناخت کہلاتی ہو۔

اس خاتون صحافی کا کہنا ہے کہ اسے ایک بار ٹی وی پر کام کرنے کی پیش کش کی گئی مگر ساتھ ہی یہ پابندی لگائی گئی کہ میں سر کو لازماً ننگا رکھوں گی۔ اس لیے میں نے اس پیش کش کو قبول نہیں کیا ہے۔

منال فقیہی کہتی ہیں 'یہ ہماری صلاحیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں مگر انہیں ہماری عرب شناخت سے چڑ ہے۔ ' تاہم خاتون صحافی نے اس ٹی وی چینل کا نام ظاہر کرنے سے معذرت کر لی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں