فلسطین کے حامی مظاہرین نے بروکلین میوزیم کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا

عجائب گھر سے اسرائیل کے ساتھ مالی معاملات ظاہر کرنے اور اسرائیلی اعانت منقطع کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عینی شاہدین نے بتایا کہ فلسطینی حامی مظاہرین نے جمعے کے روز بروکلین عجائب گھر کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے مرکزی دروازے کے اوپر ایک بینر لٹکا دیا، زیادہ تر لابی پر قبضہ کر لیا اور پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔

نیو یارک سٹی کے ضلع بروکلین میں فنون کے عجائب گھر نے کہا کہ عمارت کے اندر اور باہر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں سمیت خلل کی وجہ سے عجائب گھر ایک گھنٹہ قبل بند ہو گیا۔

کچھ گرفتاریاں ہوئیں لیکن نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا کہ احتجاج ختم ہونے تک گرفتاری کی کوئی سرکاری گنتی نہیں ہو گی۔ ابتدائی تصادم کے چند گھنٹوں بعد تک عجائب گھر کے باہر مظاہرہ جاری رہا البتہ ترجمان یہ نہیں بتا سکے کہ آیا کوئی مظاہرین اندر موجود تھے یا نہیں۔

رائٹرز کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ایک گرفتاری ایسے شخص کی تھی جس نے مارکر سے لکھ کر ایک بیرونی مجسمہ خراب کر دیا تھا۔ متعدد مظاہرین نے داخلی دروازے کے باہر پلازہ پر او وائی/وائی او مجسمے پر شکستہ لکھائی میں پیغامات لکھ دیئے۔

میوزیم کے ترجمان نے ایک ای میل میں کہا، "ہمارے پلازہ پر موجودہ اور نئی نصب شدہ تصاویر کو نقصان پہنچا ہے۔ مظاہرین عمارت میں داخل ہو گئے اور ہمارے تحفظِ عامہ کے عملے کو جسمانی اور زبانی طور پر ہراساں کیا گیا۔"

بیان میں کہا گیا، "عمارت، مجموعات اور عملے کے لیے تشویش کی وجہ سے عجائب گھر کو ایک گھنٹہ قبل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا" اور عوام سے کہا گیا کہ وہ پرامن طور پر عمارت خالی کر دیں۔"

رائٹرز کے عینی شاہد کے مطابق سینکڑوں مظاہرین بروکلین کی طرف مارچ کر رہے تھے جب ان میں سے کچھ عجائب گھر کے داخلی دروازے پر پہنچ گئے۔ سکیورٹی گارڈز نے بہت سے لوگوں کو داخل ہونے سے روکا لیکن کچھ اندر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

نیو کلاسیکل بیرونی حصے کے اوپر سے ایک بینر لٹکا دیا گیا جس پر لکھا تھا، "آزاد فلسطین، نسل کشی سے علیحدگی اختیار کریں۔"

وِد اِن آور لائف ٹائم نامی فلسطینی حامی تنظیم نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ "غزہ کے لیے بڑی تعداد میں بروکلین عجائب گھر پہنچیں"۔ تنظیم نے کہا کہ کارکنان نے عجائب گھر پر قبضہ کر لیا تاکہ اسے اسرائیل سے متعلق کسی بھی سرمایہ کاری کا انکشاف کرنے اور ایسی کوئی بھی مالی اعانت منقطع کرنے پر مجبور کیا جائے۔

غزہ جنگ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف امریکہ میں مظاہرے جاری ہیں جو زیادہ تر یونیورسٹی کیمپس میں ہیں۔

اپر مین ہٹن کی کولمبیا یونیورسٹی میں مظاہرین نے جمعہ کو فلسطینیوں کی حمایت میں سابق طلباء کی ایک تقریب کے دوران کیمپس میں ایک کیمپ لگایا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو میں کیمپس کی سکیورٹی کو کیمپ اتارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جمعے کی رات تک پولیس شامل نہیں تھی جیسا کہ وہ پہلے کیمپ کو ختم کرنے اور اس سے پہلے دو بار احتجاج کو بے دخل یا گرفتاریاں کرنے میں شامل تھی۔

کولمبیا کی ترجمان سمانتھا سلیٹر نے ایک بیان میں کہا، "ہم آج شام لگائے گئے کیمپ سے واقف ہیں اور صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے سابق طلباء کے ایک کامیاب ویک اینڈ کی میزبانی کے لیے پرعزم ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں