چین کی طرف سے روس کو ہتھیاروں کی فراہمی کا ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے پاس چین سے روس کو ہتھیاروں کی سپلائی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ فورم کے شرکاء کے سوالات کے جواب میں بوریل نے کہا کہ "چین نے (روس کو) ہتھیاروں کی فراہمی نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ (روس کو ہتھیاروں کی فراہمی) ہو رہا ہے"۔

بوریل نے مزید کہا کہ "لیکن ہتھیاروں اور غیر ہتھیاروں کے درمیان کوئی واضح لکیر نہیں ہے کیونکہ ایسی چیزیں ہیں جو دوہری استعمال کی جا سکتی ہیں"۔

بوریل نے نشاندہی کی کہ روسی فوجی سازوسامان مغربی ممالک جیسے کہ امریکہ، یورپ یا برطانیہ میں تیار کردہ پرزوں کا استعمال کرتا ہے اور یہ کہ مسئلہ صرف چین کا نہیں ہے"۔

بیجنگ نےکہا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے یوکرینی تنازعے کو ہوا دینے کے لیے چین پر الزام لگانے سے موجودہ بحران کو حل کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔ اس نے ماسکو کو فوجی مدد فراہم کرنے کے بارے میں امریکی الزامات کو بارہا مسترد کیا ہے۔

چین کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ وہ یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن پر تنقید کرنے سے گریزاں ہے، لیکن اس سے قبل اس نے تنازعے میں ثالثی میں مدد کی پیشکش کی ہے۔

چین نے جمعہ کو کہا تھا کہ جون میں سوئٹزرلینڈ کی میزبانی میں یوکرین پر ہونے والی امن کانفرنس میں شرکت کرنا اس کے لیے "مشکل" ہوگا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماو ننگ نے کہا کہ "اس اجلاس کا انتظام اب بھی چین کی ضروریات اور بین الاقوامی برادری کی خواہشات کے مطابق نہیں ہے، جس کی وجہ سے چین کے لیے اس میں شرکت کرنا مشکل ہے"۔

سوئس حکومت 15-16 جون کو ہونے والی سربراہی کانفرنس میں دنیا بھر سے وسیع پیمانے پر شرکت کی منتظر ہے۔اس سے برن کو امید ہے کہ یوکرین میں امن عمل کی راہ ہموار ہوگی۔ تاہم ماسکو کو کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ چین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ شرکت کی شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے دعوت کو مسترد کیا ہے۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ چین نے اس ہفتے سفارت کاروں کو بریف کیا کہ جو شرائط پوری نہیں ہوئی ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ روس اور یوکرین دونوں کو اس کانفرنس کو تسلیم کرنا چاہیے۔دونوں فریقوں کی مساوی شرکت ہونی چاہیے اور تمام تجاویز پر منصفانہ بات چیت ہو۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعرات کو کہا تھا کہ چین ایک امن کانفرنس منعقد کر سکتا ہے جس میں روس اور یوکرین شرکت کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں