امریکی روڈ میپ: اسرائیل نے 33 زندہ یا مردہ مغویوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اسرائیل کے سرکاری براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے کہا ہے کہ تل ابیب نے پہلے مرحلے میں غزہ میں قید کیے گئے مغوی افراد میں سے 33 کو زندہ یا مردہ رہا کیے جانے اور دوسرے مرحلے میں جنگ ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

سرکاری ادارے کے مطابق ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے نے زور دے کر کہا ہے کہ "مذاکرات اس حقیقت پر مبنی ہیں کہ ان کا نتیجہ حماس کی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کا باعث بنے گا"۔

قبل ازیں ایک اسرائیلی سیاسی عہدیدار نے کہا تھا کہ تل ابیب امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجویز کی زیادہ تر تفصیلات کو قبول کرتا ہے لیکن اگر حماس نے اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی تو وہ لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھے گا۔

ذریعے نے عبرانی اخبار "معاریف" کو دیے گئے ایک بیان میں اشارہ کیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل کی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، اور ان میں حماس کی عسکری اور انتظامی صلاحیتوں کو تباہ کرنا، تمام مغویوں کی بازیابی کے ساتھ یہ شرط بھی شامل ہے کہ دوبارہ غزہ سے اسرائیل پر حملہ نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ مغویوں کی رہائی کے منصوبے میں اسرائیل کو یہ مطالبہ کرنے کی اجازت دینی چاہیے کہ مستقل جنگ بندی کے نفاذ سے پہلے ان تمام شرائط کو پورا کیا جائے۔

سفارتی ذریعے نے کہا کہ یہ منصوبہ تمام 125 یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنے گا۔ پہلے انسانی بنیادوں پر لڑائی کے عارضی خاتمے کے ساتھ درجنوں خواتین، بالغ افراد اور انسانی بنیادوں پر کچھ لوگوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔ تمام اغوا شدہ افراد اور دیگر متاثرین کی رہائی کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کی خاطر ،امریکہ، قطراور مصر کی ثالثی میں مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

مکمل تفصیلات

المجلہ میگزین نے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے روڈ میپ کی تفصیلات شائع کی ہیں۔ یہ روڈ میپ تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں غزہ میں 10 گھنٹے تک فضائی بمباری کو روکنا بھی شامل ہے۔

تفصیلات میں بتایا گیا کہ اسرائیل منصوبے کے تحت حماس کی فراہم کردہ فہرستوں کی بنیاد پر ہر قیدی کے بدلے 30 قیدیوں کو رہا کرےگا۔ یہ روڈ میپ پہلے مرحلے میں رہا کیے جانے والوں کی تعداد میں لچک کی ضمانت دیتا ہے۔

پہلے مرحلے میں آبادی والے علاقوں سے دور مشرق کی طرف اسرائیلی افواج کا انخلاء طے کیا گیا ہے جبکہ غزہ کی تعمیر نو روڈ میپ کے تیسرے مرحلے کے اندر تین سے پانچ سال کے اندر ہوگی۔

"روڈ میپ" میں مکمل جنگ بندی، اسرائیل کا غزہ سے انخلاء اور اقوام متحدہ کے ساتھ مصری، امریکی اور قطری سرپرستی میں تین سے پانچ سال کے اندر پٹی کی تعمیر نو شامل ہے۔

اسرائیل نے معاہدے کے مسودے میں بہت آسان ترامیم کی ہیں، جس میں زندہ یرغمالیوں کی تعداد میں "لچک" شامل ہے جنہیں پہلے مرحلے میں رہا کیا جائے گا۔

جزوی طور پر ترمیم شدہ ورژن مصر اور قطر کو بھیجا گیا ہے، لیکن حماس نے اسے موصول نہیں کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ "اسرائیل کے رفح آپریشن کے بعد پچھلے مرحلے سےاب حالات بہت مختلف ہیں۔ اس لیے کہ اس نے آخری وقت پانچ مئی کو طے شدہ منصوبے پر اتفاق کیا تھا۔ حماس کے عہدیداروں نے غزہ سے مزید اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنانے کا بھی اشارہ کیا جنہیں گذشتہ ہفتے جبالیہ سے پکڑا گیا تھا۔

جمعے کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ روکنے کے لیے پیش کی گئی ایک نئی تجویز کی تفصیلات ظاہر کیں، جو تین مراحل پر مبنی ہے، جس میں مستقل جنگ بندی بھی شامل ہے۔

بائیڈن نے مشرق وسطیٰ کے بارے میں ایک تقریر میں کہا کہ تجویز کا پہلا مرحلہ چھ ہفتوں پر محیط ہے اور اس میں مکمل جنگ بندی اور رہائشی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کے بعد بے گھر ہونے والوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کے قابل بنانا شامل ہے۔

پہلے مرحلے کے دوران "اسرائیل دوسرے مرحلے تک پہنچنے کے لیے حماس کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ جس میں دشمنی کا مستقل خاتمہ، باقی تمام زندہ یرغمالیوں کے تبادلے اور اسرائیلی افواج کا غزہ سے انخلاء عمل میں لایا جائے گا‘‘۔

بائیڈن نے مزید کہا: "تیسرے مرحلے میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کا ایک بڑا منصوبہ ہوگا"۔

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ غزہ کے حوالے سے نئی تجویز کل حماس کو پیش کی گئی تھی۔ یہ تقریباً اسی طرح کی تجویزہے جس پر حماس نے چند ہفتے قبل اتفاق کیا تھا جس میں چھ ہفتے کی جنگ بندی کی تجویز شامل تھی۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے چینل 12 کو بتایا کہ بائیڈن ہماری حالات کو نہیں سمجھتے۔ ان کی تقریر میں کمزور ہے اور جو کچھ انہوں نے کہا وہ حماس کی فتح تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

جبکہ نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے تک مشروط جنگ بندی کی تجویز اسرائیل کو اپنے اہداف کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ تمام قیدیوں کی واپسی اور حماس کے خاتمے تک جنگ ختم نہیں ہوگی۔ وزیراعظم تمام اہداف کے حصول تک ختم جنگ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اسرائیل نے ایک نئی جامع تجویز پیش کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ "اسرائیل چھ ہفتوں کے لیے غزہ سے اپنی تمام افواج واپس بلانے کی پیشکش کی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیلی تجویز قطر اور حماس کو پہنچا دی گئی تھی۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے میں چھ ہفتے کی جنگ بندی اور غزہ کی پٹی کے تمام محلوں سے افواج کا انخلاء شامل ہے"۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل کی نئی تجویز میں تین مراحل شامل ہیں۔ پہلا مرحلہ چھ ہفتے تک جاری رہے گا، جس میں ایک جامع جنگ بندی اور غزہ کے آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلاء پر مشتمل ہوگا۔"

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کل ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی حماس کی عسکری اور قائدانہ صلاحیتوں کو ختم کیےبغیر نہیں ہوگی۔

حماس کا بائیڈن کی تجویز پر مثبت رد عمل

حماس نے ایک بیان میں کہا کہ "حماس امریکی صدر جوبائیڈن کی تجویز کو مثبت انداز میں دیکھتی ہے، کیونکہ اس میں مستقل جنگ بندی، غزہ کی پٹی سے قابض افواج کے انخلاء، تعمیر نو اور قیدیوں کے تبادلے کی بات کی گئی ہےـ

انہوں نے مزید کہا کہ وہ "مستقل جنگ بندی، غزہ کی پٹی سے مکمل اسرائیلی فوج کے انخلا، تعمیر نو، بے گھر ہونے والوں کی ان کے تمام رہائش گاہوں پر واپسی اور کسی بھی تجویز کے ساتھ مثبت انداز میں آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے’’۔

ادھر غزہ میں وزارت صحت نے ہفتے کوبتایا کہ سات اکتوبر سے پٹی پر اسرائیلی جنگ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 36,379 ہو گئی ہے جب کہ 82,407 زخمی ہیں جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں