تین جزیروں پر چین کا امارات کے ساتھ مشترکہ بیان ، ایران کا چین سے باضابطہ احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے اپنے زیر انتظام تین جزیروں کے بارے میں چین اور متحدہ عرب امارات کے بیجنگ میں جاری شدہ مشترکہ بیان پر احتجاج کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اتوار کے اپنے احتجاجی بیان میں امارات اور چین دونوں کے مشترکہ بیان میں پیش کیے گئے موقف کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایران نے اس سلسلے میں چین کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کر کےباضابطہ احتجاج کیا ہے۔

واضح رہے ان تینوں جزیروں کے حوالے سے بنیادی طور پر دعویٰ متحدہ عرب امارات کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ تاہم اس بارے میں چین اور امارات نے مشترکہ بیان ہفتے کے روز و اماراتی صدر کے بیجنگ کے دورے کے بعد جاری کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے مشترکہ بیان کے پیرا 26 میں کہا گیا ہے کہ چین نے متحدہ عرب امارات کی ان کوششوں کی حمایت کی ہے، جو اس نے تین جزیروں گریٹر تنب، لیزر تنب اور ابو موسیٰ بارے تنازعہ طے کرنے کے لیے کی ہیں۔

تینوں جزیرے خلیج میں آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب تزویراتی طور پر اہم ہیں۔ ان کے حوالے سے متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے تنازعہ چلا آرہا ہے۔ دونوں ملک امارات اور ایران ان جزیروں کی ملکیت کے لیے اپنا اپنا دعویٰ رکھتے ہیں۔

ایران نے ان تین جزائر پر 1971 میں قبضہ کر لیا تھا۔ یہ قبضہ برطانیہ سے امارات کی آزادی سے فوری پہلے کیا گیا تھا۔ نیز یہ کہ ایران ان متنازعہ جزائر پر بات چیت کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ ایران کا دعوی ہے کہ یہ تینوں جزائر اس کا لازوال حصہ ہیں۔

ایران اس سے قبل اسی ایشو پر روس کے ساتھ بھی احتجاج کر چکا ہے کہ روس کے ایلچی نے بھی تینوں جزیروں پر ایسا بیان دیا تھا جس طرح کا چین اور امارات کا مشترکہ بیان سامنے آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں