جو بائیڈں جنگ بندی روڈ میپ، عمل کیا گیا تو حکومت چھوڑ دیں گے: اسرائیلی وزرا کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی مخلوط حکومت کے اہم انتہا پسند اتحادی اور اسرائیلی کابینہ میں داخلی سلامتی کے امور کے وزیر ایتمار بن گویر نے ہفتہ کے روز وزیر اعظم نیتن یاہو کو دھمکی دی ہے کہ اگر نیتن یاہو نے امریکی صدر جوبائیڈن کی جنگ بندی تجاویز کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کی تو وہ حکومت سے الگ ہو جائیں گے۔

بن گویر اور بزالیل سموٹریچ نیتن یاہو کابینہ کے انتہا پسندی میں سب سے آگے بڑھے ہوئے اتحادی ہیں اور دونوں کے خیالات جنگ کے بارے میں انتہا پسندانہ رہے ہیں۔ بن گویر نے صدر جو بائیڈن کے جمعہ کے روز سامنے آنے والی جنگ بندی تجاویز پر اسی پس منظر میں سخت ردعمل دیا ہے۔

بن گویر کے علاوہ سموٹریچ نے بھی نتین یاہو کو انتباہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے حماس کے مکمل خاتمے کے بغیر جنگ بندی قبول کی تو دونوں حکومت کا حصہ نہیں رہیں گے اور حکومت چھوڑ دیں گے۔

بن گویر کے مطابق 'ان تجاویز پر معاہدہ کرنا سخت احمقانہ اور دہشت گردی کو فتح یاب کرنے کے مترادف ہوگا۔ جس کا مطلب اسرائیلی سلامتی کو مستقل خطرے میں ڈالنا ہے۔' بن گویر شدت پسندانہ تعصب کی حد تک قوم پرستی کا رجحان رکھنے والی جماعت 'جیوش پاور پارٹی' سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے نیتن یاہو کو دھمکی دی ہے 'جنگ بندی کی گئی تو ان کی جماعت حکومت سے الگ ہوجائے گی اور حکومت ختم ہو جائے گی۔'

انہوں نے کہا 'جب تک ایک مکمل فتح نہیں ہوتی تو ایسا معاہدہ کرنا مکمل شکست کے برابر ہوگا۔'

اسی طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر وزیر خزانہ اور مخلوط اسرائیلی حکومت کے دوسرے بڑے اتحادی بزالیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ وہ ایسی حکومت کا حصہ نہیں رہیں گے جو تجویز کردہ جنگ بندی کے خاکے سے اتفاق کرے گی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا 'ہم جنگ کے تسلسل کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ حماس کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے اور یرغمالیوں کو واپس گھروں میں لایا جائے۔'

اس سے قبل ہفتے ہی کے روز نیتن یاہو نے اصرار کر کے کہا تھا کہ وہ حماس کے مکمل خاتمے تک جنگ کریں گے۔ ان سب کے یہ بیانات جوبائیڈن کے تجویز کردہ 'روڈ میپ' کے بعد سامنے آئے ہیں۔

غزہ جنگ میں اب تک 36379 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 81 ہزار کے قریب ہے۔ اس جنگ کے آٹھ ماہ مکمل ہونے میں اب محض چار دن باقی ہیں۔ اس میں لاکھوں لوگ بےگھر ہو چکے ہیں اور اب اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب میں واقع شہر رفح کو اپنا ہدف بنا کر تقریباً ایک ماہ سے زمینی حملہ شروع کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں