ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر بننے کی کوشش میں ٹک ٹاکر بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مختصر ویڈیوز کی شہرت رکھنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ٹک ٹاک ' کو جوائن کر لیا ہے۔ یہ ٹک ٹاک کا ادارہ چین میں قائم ایک بہت بڑی کمپنی ' بائٹ ڈانس' کی ملکیت ہے۔

امریکی اخبار پولٹیکو نے اس بارے میں سب سے پہلے خبر دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی رات اپنے اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو لانچ کی ہے جس میں وہ ' الٹیمیٹ فائنڈنگ چمپئین شپ میں تماشائیوں کو مبارکباد دے رہے ہیں۔

واضح رہے بائیٹ دانس نامی کمپنی امریکی عدالت مین ان دنوں ایک مقدمہ لڑ رہی ہے۔ یہ مقدمہ اس کے خلاف ماہ اپریل میں لاگئی اس پابندی کے خلاف اپیل کی صورت میں ہے جس میں بائٹ ڈانس کو اگلے سال جنوری تک ٹک ٹاک کو کسی اور کے ہاتھ فروخت کرنا ہو گا ، یا پھر اسے ٹک ٹاک پر پابندی قبول کرنا ہوگی۔

بلا شبہ ٹک ٹاک کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی امریکہ کے لیے چیلنج بن سکتی ہے کہ اس پلیٹ فارم کی مالک کمپنی کا تعلق چین سے ہے۔ اس بارے میں وائٹ ہاؤس نے دو ٹوک اور کھلے لفظوں میں کہہ رکھا ہے کہ امریکہ قومی سلامتی کی بنیاد پر ٹک ٹاک کی ملکیت چینی کمپنی کے ہاتھ میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس سے دنیا کے دیگر ترقی کرنے والے میڈیا آؤٹ لیٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے کہ جو بھی غیر امریکی میڈیا مقبولیت حاصل کرے گا اس کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

اہم بات ہے کہ وسیع تر قومی مفاد کے نام پر ٹرمپ نے بھی 2020 میں ٹرمپ نے بطور صدر ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی مگر عدالتوں نے انہیں اجازت نہیں دی تھی۔ امریکہ میڈیا کے شعبے کا استعمال جس خوبصورتی سے ایک جنگی ہتھیار کے سے اندازمیں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، اس وجہ سے سمجھتے ہیں کہ یہ صلاحیت کسی اور کے پاس ہو گی تو قلم اور کیمرے کو ہتھیار بنا لے گا۔ لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ کو اسی دوسرے کے کنٹرول یا بنائے ہوئے ہتھیار کی اپنی انتخابی مہم میں ضرورت پڑ گئی ہے اور وہ بھی ٹک ٹاکر بن گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں