جرمنی میں نکالی گئی اسلام دشمن ریلی میں زخمی ہونے والا پولیس اہلکار چل بسا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمنی میں اسرائیلی جنگ کے حامیوں نے جمعہ کے روز اسلام دشمنی پر مبنی ایک احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا۔ جس کے دوران ایک 29 سالہ پولیس اہل کار کو چاقو سے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار کی موت اتوار کے روز ہوئی کہ جب وہ دو روز تک موت وحیات کی کش مکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔

ریلی کے دوران چاقو سے ایک مسلح شخص نے متعدد افراد پر حملے کیے۔ یہ اسلام دشمن ریلی جرمنی کے شہر مانیھم کی ایک مارکیٹ کے چوراہے پر نکالی گئی تھی۔ مانیھم کا شہر جرمنی میں جنوب مغربی شہر کہلاتا ہے۔

اسلام دشمنی اور اسرائیلی جنگ کی حمایت کے لیے یہ ریلی 'پیکس یورپ' نامی گروپ نے نکالی۔ اس ریلی میں شریک پانچ لوگ چاقو زنی سے زخمی ہوئے ہیں۔ لیکن پولیس والا زیادہ زخمی ہونے کی وجہ سے جانبر نہیں ہو سکا ہے۔

پولیس اہلکار کو زخمی ہونے کےفوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد کے لیے لے جایا گیا جہاں اس کا علاج معالجہ شروع کر دیا گیا۔ لیکن پولیس کے بیان کے مطابق اسے علاج کی خاطر مصنوعی قومے کی حالت میں رکھا ، جو اس کی جان بچانے میں مفید نہ رہا۔

پولیس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکار کے سر میں متعدد چوٹیں آئی تھیں۔اس کے موت پر جرمن چانسلر اولف شولز نے کہا ہے 'میں گہرے صدمے میں ہوں ۔' اس پر ہولناک حملہ کیا گیا تھا۔'

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے بیان میں جرمن چانسلر نے کہا ' اس کی دوسروں کے تحفظ کے لیے جان دے دینے تک کی کمٹمنٹ کو ضرور تسلیم کیا جانا چاہیے۔'

جرمن وزیر خزانہ نے کہا ' کرسٹائین لنڈنر نے روزنامہ بلڈ کو کہا ' پولیس اہلکار کی موت نے مجھے بہت رنج اور غصہ دیا ہے کہ ہمارے ملک میں یہ کیا ہو رہا ہے۔' جرمن وزیر داخلہ نینسی فائزر نے ریلی کے دوران پولیس اہلکار پر ہونے والی چاقو زنی کی واردات اور اس کے سارے ماحول کے بارے میں جامع تحقیات کی جانی چاہییں۔ '

واضح رہے جرمنی اسرائیل اور حماس کی جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی داخلی سلامتی کے لیے ہائی الرٹ پر چلا گیا تھا۔ ملک کی داخلی سلامتی کے لیے انٹیلی جنس چیف نے خبر دار کیا تھا تھا کہ اس طرح کے حملے بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ حملے ایک عرصے بعد حقیقی معنوں میں زیادہ بڑے ہو سکتے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں