سانپ کے ڈسنے سے خاتون صحافی کی موت پر سوڈان میں صدمے کی لہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تقریباً ایک ماہ قبل زہریلے سانپ کے کاٹنے سے متاثر ہونے والی سوڈانی صحافی ہدیٰ حامد کل اتوار کو دارالحکومت خرطوم میں انتقال کر گئیں۔

ھدیٰ کے خاندانی ذرائع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ ھدیٰ حامد کو صحت کی دیکھ بھال کے فقدان کی وجہ سے اس پورے عرصے میں بہت زیادہ تکلیف سےگذرنا پڑا۔

پاؤں سیاہ ہونے کے ساتھ پھولنے لگا

سوگوار خاندان کا مزید کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک درد برداشت کرتی رہی جب تک کہ اس کا پاؤں کالا اور سوج نہیں گیا۔ اسے نیو البان ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی موت ہوگئی۔

اس کے علاوہ ملک میں سوشل میڈیا سائٹس پر صارفین نے ھدیٰ حامد کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوارخاندان سےتعزیت کی ہے۔

جبکہ سوڈانی صحافیوں کی سنڈیکیٹ نے ھدیٰ حامد کی وفات پر سوگ کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ کل خرطوم کے مشرق میں نیل الارزق کے مضافاتی علاقے البان ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔

مدد کی درخواست

گذشتہ 13 مئی کو اپنے ذاتی ’فیس بک‘ پیج پر ھدیٰ حامد نے خرطوم کے مضافاتی علاقے حاج یوسف سےاپنی اکلوتی بیٹی سمیت باہر نکلنے میں مدد کی درخواست کی تھی۔ یہ علاقہ ایک سال سوڈنی فوج اور اس کی حریف ’ریپیڈ سپورٹ فورس‘ کے درمیان میدان جنگ بنا ہوا تھا۔

اس نے لکھا کہ "پیارے دوستو، میں آپ سے کہتی ہوں کہ مجھے ایسی جگہ جانے کے لیے سپورٹ کریں جہاں میں خود کو محفوظ رکھنے کےساتھ کمائی کا کوئی ذریعہ تلاش کرسکوں تاکہ میری اکلوتی بیٹی کے مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔ میرے پاس پیسے ہیں اورنہ روزگار ہے۔ ہمیں پانی، بجلی، یا انٹرنیٹ کی محدود سہولت میسر ہے جس پر مجھے ہر سال 3,000 سوڈانی پاؤنڈ خرچ کرنا پڑتے ہیں"۔

آخری پوسٹ

سوڈان صحافی ہنادی عبداللطیف نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ ھدیٰ حامد نے اس تکلیف کی کال اس وقت بھیجی جب اس کے زندگی گذارنے کے ذرائع محدود ہو گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مدد کی کال کے ساتھ اس نے صحافی صدیق دالی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جو ایک ماہ سے نیل الارزق ریجن کے شہر دمازین میں زیر حراست تھے۔ھدیٰ حامد نے اپنے فیس بک پیج پر یہ آخری بات لکھی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ ہدیٰ حامد 1977ء میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے خرطوم یونیورسٹی سے صحافت اور میڈیا میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے تک تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے کئی مقامی اخبارات میں بھی کام کیا اور سوڈانی پوسٹ کی ویب سائٹ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر کام کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں