فلسطینی ریاست تسلیم کرنے میں التوا کے لیے سلووینیا اپوزیشن کی پارلیمان میں تحریک پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سلووینیا کی رجعت پسند اپوزیشن نے پیر کے روز پارلیمان میں ایک ایسی تحریک پیش کی ہے جس کا مقصد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں پارلیمان میں ہونے والے حتمی پراسس کو التوا میں ڈالنا ہے۔

پارلیمانی ترجمان خاتون نے اس بارے میں بتایا ہے کہ سلووینیا دوسرے یورپی ملکوں کی طرح فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے جا رہا ہے۔ ان تین ملکوں میں سپین، آئرلینڈ اور ناروے شامل ہے۔

خیال رہے سلووینیا کے قانون سازوں نے پارلیمانی شیڈول میں منگل کا دن فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے ووٹنگ کا دن مقرر کر رکھا ہے۔ منگل ہی کے روز اس ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا پارلیمان فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں ہے یا مخالفت میں۔

یورپی ملک سلووینیا اور اس سے پہلے تین دیگر یورپی ملکوں کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں فیصلہ اسرائیل کی غزہ میں تقریباً آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے نتیجے میں ہونے والے انسانی جانوں کے نقصان اور تباہی کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاکہ مشرق وسطیٰ کو امن کی طرف دھکیلا جا سکے اور اسرائیل کو پیغام دیا جا سکے کہ طاقت سے اس مسئلے کو دبایا جا نہیں سکتا۔ بلکہ آخر کار اسے ماننا ہی پڑے گا۔

سلووینیا کی پارلیمان کے 90 ارکان کے ایوان میں سے 51 ارکان کا تعلق بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے تین حکمران جماعتوں کے ساتھ ہے۔ حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حامی ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ اس دہائیوں پرانے تنازعے کو جلد طے کیا جائے۔ تینوں جماعتیں مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فلسطینی ریاست کا قیام ضروری سمجھتی ہیں۔

تاہم سابق وزیراعظم اور سلووینین پارٹی ایس ڈی ایس کے رہنما جینس جانثا نے ایک ایسی تحریک جمع کرائی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایک ایسے ریفرنڈم کا حکم جاری کیا جائے جس میں عوام سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے بارے میں رائے لی جائے۔

پارلیمانی خاتون ترجمان نے کہا ہے 'اپوزیشن کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا معاملہ التوا میں ڈالنے کے لیے 30 دن تک کا آسانی میں التوا مل سکتا ہے۔

واضح رہے اس بارے میں اب حتمی فیصلہ 17 جون کو کیا جائے گا کہ آیا اپوزیشن جماعت کی اس تجویز کو قبول کرنا ہے یا نہیں کرنا ہے۔ البتہ زیادہ تر توقع یہی ہے کہ اپوزیشن کی یہ تحریک پارلیمان اکثریتی ووٹوں سے مسترد کرے گی۔

ایس ڈی ایف کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ سلووینیا نے دہشت گرد تنظیم حماس کو تسلیم کر لیا ہے۔

سینٹرل لیفٹ کی جماعتوں پر مشتمل حکومت نے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا معاملہ پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ جو اس کی حتمی منظوری دی گی۔ یہ بات اس جماعت کی طرف سے پچھلے ہفتے کہی گئی تھی۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے بھی پچھلے ہفتے اس بات کی توقع کی ہتھی کہ سلووینیا کے قانون دان فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی قرارداد مسترد کر دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں