ٹرمپ ٹرائل

میرا ٹرائل اہلیہ پر گراں گذرا، میرے حامی میرا جیل جانا قبول نہیں کریں گے: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکہ میں بالغوں کے لیے بنائی جانے والی فلموں میں کام کرنے والی اداکارہ کے ساتھ جنسی تعلقات کے بعد اس کی زبان بندی کے لیے غیر قانونی طریقوں سے رقم [ہش منی] ادا کرنے کی پاداش میں عدالت کی طرف سے مجرم قرار دیے جانے کے بعد سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی ان کی اہلیہ میلانیا کے لیے بہت تکلیف دہ ثابت ہوئی ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف عدالتی کارروائی ان کی اہلیہ کے لیے "انتہائی سخت" تھی جو گذشتہ ہفتوں کے دوران عدالتی سماعتوں میں شریک نہیں ہوئیں۔

تاہم انہوں نے امریکی فاکس نیوز نیٹ ورک پر اتوار کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں تصدیق کی کہ میلانیا ’ٹھیک‘ ہے حالانکہ معاملہ ان کے لیے بہت مشکل ہے"۔

’سب بکواس‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ "اسے (میلانیا کو) یہ سب بکواس پڑھنا پڑا کہ پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز سے میرے جنسی مراسم رہے ہیں حالانکہ میں ان الزمات کو بار بار مسترد کر چکا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میرے خیال میں شاید یہ میرے خاندان کے خلاف کیے گئے بہت سے دیگر حربوں میں میرے لیے زیادہ مشکل حربہ تھا"۔

انہوں نے کہا کہ میرے خلاف ٹرائل کا محرک ’سیاسی‘ ہے۔ مجھ پر ظلم کرنے والے برے، انتقامی اور بیمار لوگ ہیں"۔

عدلیہ کو استعمال کرنے کا الزام

انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ ڈیموکریٹس نے عدلیہ کو ان کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ٹرمپ اپنے سیاسی مخالفین پر یہ الزام بار بار عاید کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ان کے خلاف جیل کی سزا جاری کرنا ان کے حامیوں کے لیے ایک "ٹرننگ پوائنٹ" ہو سکتا ہے۔ عوام کے لیے اسے قبول کرنا مشکل ہو جائے گا"۔

یہ انٹرویو گذشتہ جمعرات کو نیویارک کی مین ہٹن ڈسٹرکٹ کورٹ میں جیوری کے اس فیصلےکے بعد سامنے آیا جس میں چھ ہفتوں کی سماعتوں کے بعد ٹرمپ کو 2016 کے صدارتی انتخابات کے لیے اپنی مہم کے آخری مراحل میں اکاؤنٹنگ دستاویزات میں جعلسازی کرنے کے 34 الزامات کا مجرم قرار دیا۔

انہیں صدارتی مہم سے تقریبا دس سال پیشتر پورن سٹارسٹورمی ڈینیئلز کے ساتھ مبینہ تعلقات پر اس کی خاموشی خریدے کے لیے اسے خطیر رقم دینے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

سزا پانے والے پہلے صدر

نومبر 2024ء کے صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار مجرمانہ مقدمات میں سزا پانے والے پہلے سابق امریکی صدر بن گئے۔

سابق امریکی صدر ٹرمپ اپنی اہلیہ ملانیا کے ہمراہ [ اییسوسی ایٹڈ پریس]
سابق امریکی صدر ٹرمپ اپنی اہلیہ ملانیا کے ہمراہ [ اییسوسی ایٹڈ پریس]

قابل ذکر ہے کہ ان کے تین بالغ بچے مقدمے کی سماعت کے آخری دنوں میں مین ہٹن میں کمرہ عدالت میں آئے تھے۔

تاہم میلانیا نے اس کی پیروی نہیں کی۔ سابق خاتون اول اپنے شوہر کی انتخابی سرگرمیوں سے مکمل طور پر غیر حاضر رہتی تھیں اور ان کی کسی بھی انتخابی میٹنگ میں نظر نہیں آتی تھیں بلکہ وہ ان کے ساتھ کم ہی کسی عوامی مقام پر نظر آئیں۔

’ڈونلڈ ٹرمپ کو جیل ہونی چاہیے‘

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف گواہی دینے والی ’اڈلٹ‘ فلموں کی اداکارہ سٹورمی ڈینیئلز نے برطانوی میگزین ’دی مرر‘ میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جیل جانا چاہیے۔

ڈینیئلز نے کہا، ''میرے خیال میں انہیں رضاکارانہ طور پر خواتین کی کسی جیل میں 'پنچنگ بیگ‘ بن جانا چاہیے یا کسی قید ‌خانے میں کمیونٹی سروسز کا حصہ بن جانا چاہیے۔‘‘

نیویارک کے مقدمے میں ٹرمپ کے خلاف گواہی دینے کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ انہوں نے میڈیا میں آ کر اپنی خاموشی توڑی ہے اور سابق امریکی صدر کے متعلق یہ تمام باتیں کہی ہیں۔

ڈینیئلز، جن کا اصل نام سٹیفنی کلفورڈ ہے، کو خاموش رہنے اور الیکشن سے پہلے اس اسکینڈل کے سامنے آنے سے روکنے کے لیے ایک لاکھ تیس ہزار امریکی ڈالر ادا کیے گئے تھے۔ ان انتخابات میں ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو شکست دی تھی۔

بالغ فلموں کی سابق اداکارہ نے اپنی گواہی کی مدد سے ڈونلڈ ٹرمپ کو عدالت لانے پر مجبور کیا۔ اس کیس میں اداکارہ کی جانب سے کئی اہم اور ذاتی نوعیت کی تفصیلات بھی بیان کیں۔

انہوں نے جریدے کو اپنے انٹرویو کے دوران بتایا کہ عدالت میں ججوں کے سامنے بیان دینا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا۔ انہوں نے کہا، ''مجھے خوشی ہے کہ یہ بات ثابت ہو گئی کہ میں سچ بول رہی تھی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ سب وہ کبھی بھی فراموش نہیں کر پائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں