کرونا سے بچاؤ کے اقدامات سائنسی نہیں محض اختراع تھے: فوکی کے اعتراف پر دنیا حیران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اینتھونی فوکی وہ شخص ہیں جو 2020 میں اور اس کے بعد کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران سب سے نمایاں رہے۔ فوکی ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفیکٹو ڈیزیز کے ڈائریکٹر تھے۔ وبائی مرض کے کم ہونے کے باوجود ان کا نام صحت اور میڈیا کے حلقوں میں ایک مرتبہ پھر اس وقت سامنے آیا ہے۔ اس مرتبہ اپنے بیان سے انہوں نے دنیا کو حیران اور ششدر کرکے رکھ دیا ہے۔ فوکی نے اس سال کے آغاز میں کانگریس کے سامنے گواہی دی تھی کہ انہوں نے سائنسی بنیادوں کے بغیر امریکیوں کو کرونا وائرس سے بچانے کے لیے چھ فٹ کے سماجی فاصلاتی اصول دئیے اور دیگر اقدامات قائم کیے تھے۔

ڈیلی میل کے مطابق ریپبلکنز نے سب سے مشہور ڈاکٹر کے ساتھ ان کے انٹرویو کا مکمل متن ان کی متوقع عوامی گواہی سے چند روز قبل شائع کیا ہے۔ ریپبلکنز ان سے کرونا وائرس کی ان پابندیوں کے بارے میں دوبارہ پوچھ گچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن کا انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے بہت کچھ نہیں کیا۔

انٹرویو کے متن کے مطابق کرونا وائرس وبائی امراض پر ہاؤس سلیکٹ سب کمیٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ سے بات کرتے ہوئے فوکی نے ریپبلکنز کو بتایا کہ چھ فٹ کا معاشرتی فاصلاتی اصول نیلے رنگ سے نکلا ہے ۔ انہیں یاد نہیں ہے کہ اس کی سائنسی بنیادیں کیا ہیں اور اسے کس مطالعے سے اخذ کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسے مطالعات سے واقف یا مطلع نہیں تھے جو معاشرتی دوری کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس طرح کے مطالعات کا انعقاد بہت مشکل ہوگا۔ سماجی دوری کی حمایت کرنے والے کسی بھی ثبوت کو یاد نہ کرنے کے علاوہ فوکی نے کمیٹی کے وکیل کو یہ بھی بتایا کہ انہیں کوئی ایسی چیز پڑھنا یاد نہیں ہے جس سے اس بات کی تائید ہو کہ بچے کے ماسک پہننے یا سکول سے غیر حاضر رہنے سے بھی کورونا وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔

فوکی اعترافی سکینڈل

واضح رہے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ماسک پہننے اور کرونا کے دیگر اقدامات کی وجہ سے سیکھنے کے نقصان اور سماجی دوری نے ان بچوں کی خواندگی اور سیکھنے کی صلاحیت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔

ایک اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطالعے سے پتا چلا ہے کہ سماجی دوری کے اثرات ڈپریشن، عمومی تشویش، شدید تناؤ، اور دخل اندازی کے خیالات کا باعث بنتے ہیں۔ کرونا وائرس کمیٹی نے اس وائرس کی ابتدا کو دریافت کرنے کے لیے مہینوں کا وقت لگایا۔ یاد رہے اس وائرس نے بہت سے لوگوں کی زندگیوں کے معمولات تلپٹ کرکے رکھ دئیے اور 60 لاکھ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔ فوکی اکثر ماسک مینڈیٹ اور ویکسین پر ریپبلکنز کے ساتھ جھڑپیں کرتے رہے ہیں۔

کانگریس میں ریپبلکنز نے وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان یا سینٹ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی صورت میں متعدی بیماری کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فوکی کے بارے میں وسیع تحقیقات کھولنے کا عزم کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں