بھارتی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری اور بی جے پی کی سبقت

دنیا کے سب سے بڑے جمہوری انتخابات کے ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور تازہ رجحانات سے لگتا ہے کہ بی جے پی تیسری بار اقتدار میں واپس آ سکتی ہے۔ تاہم توقع کے برعکس حزب اختلاف کا 'انڈیا' اتحاد بھی سخت ٹکر دے رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت کے ایوانِ زیریں (لوک سبھا) کے انتخابات کے لیے سات مراحل میں ہونے والی پولنگ کے بعد منگل کو ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ووٹوں کی حتمی گنتی سے قبل ابتدائی جائزوں کے مطابق وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں انتخابی اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) اور اپوزیشن اتحاد انڈین نیشنل ڈویلپنگ انکلیوسیو الائنس (انڈیا) کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔

ابتدائی جائزوں میں لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے این ڈی اے 298 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے جب کہ انڈیا کو 225 نشستوں پر سبقت حاصل ہے۔

بھارت میں حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت کا عدد 272 ہے اور ابتدائی جائزوں میں بی جے پی اتحاد یہ عدد حاصل کر چکا ہے۔

واضح رہے کہ 19 اپریل سے یکم جون تک بھارت کی مختلف ریاستوں میں لوک سبھا کی 543 نشتوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے۔ انتخابات میں لگ بھگ ایک ارب لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل تھے جن میں سے 66 فی صد سے زیادہ ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے۔

اپوزیشن اتحاد اور کانگریس پارٹی کے اہم رہنما راہل گاندھی ریاست کیرالہ کے ضلع وائناڈ اور ریاست اترپردیش کے شہر رائے بریلی سے انتخابی میدان میں ہیں اور ابتدائی جائزوں کے مطابق انہیں دونوں نشستوں پر سبقت حاصل ہے۔

راہل گاندھی نے 2019 کے انتخابات میں بھی دو نشستوں سے الیکشن لڑا تھا اور انہیں وائناڈ کے حلقے میں کامیابی جب کہ امیٹھی میں شکست ہوئی تھی۔

توقع کی جا رہی ہے کہ منگل کی شام تک کامیاب اور ہارنے والے امیدواروں کا پتا لگ جائے گا اور لوک سبھا کی نشستوں کے بارے میں صورتِ حال واضح ہو جائے گی۔

بی جے پی انتخابی نتیجہ آنے سے قبل ہی اپنی ممکنہ جیت کا جشن منانے کی تیاری کر رہی ہے۔

یکم جون کو ووٹنگ کا ساتواں مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مقامی میڈیا میں جو ایگزٹ پولز سامنے آئے، ان میں این ڈی اے کو دو تہائی اکثریت ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ متعدد ایگزٹ پولز کے مطابق بی جے پی تنہا 303 سے زیادہ نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔

ایگزٹ پولز میں اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد انڈین نیشنل ڈویلپنگ انکلیوسیو الائنس (انڈیا) کو 60 سے زیادہ نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔

تاہم منگل کو آںے والے ابتدائی جائزوں نے ایگزٹ پولز کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔

رہے کہ ایگزٹ پولز بعض نجی کمپنیوں کی جانب سے ووٹرز کی آرا پر مشتمل جاری کردہ ممکنہ انتخابی نتائج ہوتے ہیں۔ البتہ ماضی میں بھارت میں ایگزٹ پولز کے نتیجے غلط بھی ثابت ہوئے ہیں۔

اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘نے ایگزٹ پول کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ رائے عامہ کے جائزے حکومت کے اشارے پر ذہن سازی کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔ اپوزیشن نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھ کر اپنے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔

شیئر بازار میں مندی

پارلیمانی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے دوران ہی بھارت کے بازار حصص میں 2000 سے بھی زیادہ پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔

گزشتہ روز زبردست اچھال کے بعد منگل کے روز اسٹاک مارکیٹ کریش کر گیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی رجحانات سے یہ بات واضح نہیں تھی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے اتحاد کو 272 سے زیادہ سیٹوں پر برتری مل رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں