لاس اینجلس : سٹی ہال کے باہر غزہ میں جنگ بندی حامیوں کے خیمے لگ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی غزہ میں جنگ اور فلسطینیئیوں عورتوں اور بچوں کی ہزاروں کی تعدادمیں ہلاکتوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاجاً نکلے ہوئے امریکی شہریوں کا احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں۔ پیرکی رات ان مطاہرین نے لاس اینجلس کے سٹی ہال کے سامنے خیمے لگا کر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا

یہ مظاہرین مسلسل جنگ بندی کے خلاف اور انسانی حقوق کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ رفح پر جب سے اسرائیلی فوج نے بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر بمباری کی ہے اور 45 فلسطینیوں کو ہلاک اور 249 کو زخمی کیا ہے امریکہ اور یورپ میں احتجاجی مظاہرین کیمپ لگا کر بیٹھنے اور رفح میں بے گھر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔

لاس اینجلس کے بڑے شہری مرکز 'سٹی ہال' کے سامنے مظاہرین فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے 20 خیموں میں موجود تھے۔یہ خیمے مین سٹریٹ اور سٹریٹ فرسٹ میں عمارات کے ساتھ لگائے گئے تھے۔

ان کیمپوں میں کئی فلسطینیوں کے پرچم لہرائے گئے تھے۔ مختلف جگہوں پر کتبے اور بینر تھے جن پر فلسطین کو آزادی چاہیے ، غزہ کو آزاد کرو کے نعرے تحریر تھے۔

لاس اینجلس پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر لکھا' ہم ایک بغیر اجازت کیے جانے والے اس احتجاج کو مانیٹر کر رہے ہیں۔لوگوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان مظاہرین پر نظر رکھیں ۔۔'

تاہم اس کیمپنگ کے دوران کسی بھی قسم کے بد امنی والے واقعے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ کسی شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع نہیں ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ پولیس کی طرف سے اس اپیل کا بھی کسی پر کوئی اثر نہیں ہوا کہ لوگ ان مظاہرین پر نظر رکھیں۔' گویا ان مظاہرین سے اختلاف کرنے والے شہریوں نے بھی ان کے ساتھ پولیس کی موجودگی کے باوجود کوئی حرکت نہیں کی ہے۔

واضح رہے امریکہ کی بڑی اور نامی گرامی یونیورسٹیوں میں غزہ میں جنگ بندی کے حق میں اور ہزاروں فلسطیی شہدا اور بے گھر افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کئی ہفتے سے طلبہ کی سرگرمیاں کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔ اب تک 300 سے زائد امریکی طلبہ جنگ بندی کی حمایت کے لیے کیمپ لگانے پر گرفتار کیے جا چکے ہیں۔یہ طلبہ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ، سان ڈیاگو، اور دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ ہیں۔

امریکی یونیورسٹیوں سے شروع ہونے والی یہ طلبہ تحریک یورپ کے تعلیمی اداروں سے ہوتے ہوئے ایشیائی کیمپسز میں بھی پہنچ چکی ہے۔ یہ سب جنگ بندی کے حامی اور بچوں اور عورتوں کی ہلاکتوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور فلسطین کی آزادی کے نعرے لگا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں