’اب کی بار 400 پار‘ کا دعوٰی کرنے والے مودی چناؤ میں بھاری اکثریت نہ لے سکے

مودی نے اپنے اتحاد کی جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’لوگوں نے ان کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس پر تیسری مرتبہ اعتماد کیا ہے۔‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایگزٹ پولز کے مطابق اگرچہ مودی کا اتحاد متوقع طور پر حکومت سازی میں کامیاب ہو جائے گا اور ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بے جے پی) کے رہنما نریندر مودی تیسری مرتبہ وزرات عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہونے کا اعزاز حاصل کر لیں گے۔

تاہم کانگریس پارٹی کی قیادت میں اپوزیشن سیاسی اتحاد مودی کے ہندو قوم پرست سیاسی اتحاد کی پارلیمانی اکثریت کو کم کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

اس سے قبل بھارت میں صرف جواہر لعل نہرو ہی ایک ایسے سیاستدان گزرے ہیں، جنہوں نے تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالا تھا۔

تہتر سالہ نریندر مودی نے ایکس پر اپنی جیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’لوگوں نے ان کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس پر تیسری مرتبہ اعتماد کیا ہے۔‘

نریندر مودی نے کہا کہ ’ہم وہ تمام اچھے کام جاری رکھیں گے جو گذشتہ دس سالوں کے دوران کیے گئے تاکہ ان کی (عوام) امیدیں پوری کرتے رہیں۔‘

یکم جون کو ووٹنگ کا ساتواں مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مقامی میڈیا میں جو ایگزٹ پولز سامنے آئے تھے، ان میں این ڈی اے کو دو تہائی اکثریت ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ متعدد ایگزٹ پولز میں کہا گیا تھا بی جے پی تنہا 303 سے زیادہ نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔

ایگزٹ پولز میں اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد انڈین نیشنل ڈویلپنگ انکلیوسیو الائنس (انڈیا) کو 60 سے زیادہ نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔

تاہم منگل کو آنے والے ابتدائی جائزوں نے ایگزٹ پولز کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایگزٹ پولز بعض نجی کمپنیوں کی جانب سے ووٹرز کی آرا پر مشتمل جاری کردہ ممکنہ انتخابی نتائج ہوتے ہیں۔ البتہ ماضی میں بھارت میں ایگزٹ پولز کے نتیجے غلط بھی ثابت ہوئے ہیں۔

انڈین کانگریس رہنما راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ انڈیا کے عام انتخابات میں ووٹرز نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کو کم ووٹ دے کر ’سزا’ دی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں کہا کہ ’مجھے یقین تھا کہ اس ملک کے لوگ درست جواب دیں گے۔‘

انڈیا کے الیکشن کمیشن کے مطابق راہل گاندھی انڈیا کی پارلیمان میں واپس قدم رکھیں گے۔ اس بار انہوں نے دو سیٹوں کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیا۔

ملک کے شمال میں رائے بریلی کی سیٹ پر ان کو تین لاکھ 89 ہزار ووٹ سے برتری ملی۔

ٹرن آؤٹ حوصلہ افزاء رہا

بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق اس مرتبہ کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 968 ملین تھی۔ اس الیکشن میں 66.3 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے، جو اس مرتبہ کی سیاسی فضا کو دیکھتے ہوئے ایک حوصلہ افزا ٹرن آؤٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم یہ سن 2019 کے الیکشن کے مقابلے میں کچھ کم ہے۔ گزشتہ الیکشن میں ٹرن آؤٹ 67.4 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تب مجموعی طور پر 612 ملین ووٹرز نے ووٹ ڈالا تھا۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اس بار پارلیمانی انتخابات سات مرحلوں پر مشتمل تھے، جو چھ ہفتوں میں مکمل ہوئے۔ ووٹنگ کا پہلا مرحلہ انیس اپریل اور آخری یکم جون کو منعقد ہوا۔ حتمی نتائج کا اعلان متوقع طور پر پانچ جون کو کر دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں