قائم مقام ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ لبنان و شام، حسن نصراللہ اور بشارالاسد سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے ساتھ غزہ کی صورت حال اور تجویز کیے گئے حل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان کی یہ ملاقات لبنان میں ہوئی ہے۔

حزب اللہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورت حال اور سلامتی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا ۔ ان جائزے کے نکات میں غزہ کے ساتھ ساتھ لبنانی فرنٹ اور تجویز کیا گیا حل برائے غزہ بھی شامل تھا۔

خیال رہے امریکی صدر جوبائیدن کی طرف سے پیش کیے گئے غزہ روڈ میپ کے حوالے سے انہوں نے حماس پر زور دیا ہے حماس اس کو تینوں مراحل کے ساتھ قبول کر لے۔

علی باقری جو پیر کے روز لبنان پہنچے تھے ان کا یہ بطور قائم مقام لبنان کا پہلا دورہ تھا۔ ان کے پیشرو حسین امیر عبداللہیان صدر ایران ابراہیم رئیسی کے ساتھ ہیلی کاپٹر حادثے میں 19 مئی کو جاں بحق ہو گئے تھے۔

لبنان میں اپنے دورے کے سلسلے میں انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ' صدر جوبائیڈن کو چایے کہ وہ اسرائیل کے لیے اسلحے کی تمام سپلائی روک دیں۔ تاکہ ان کے تجویز کردی سیز فائر کو سنجیدہ مانا جائے۔

ان کا کہنا تھا انہوں نے اپنے پہلے دورے کے لیے لبنان کا انتخاب کیا ہے، کیونکہ لبنان اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا اہم مرکز ہے۔ عالی باقری شام کا بھی دورہ کریں گے۔ ان کی منگل کے روز اپنے شامی ہم منصب فیصل مقداد کے علاوہ شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی اوریہاں شامی دارالحکومت میں قائم ایرانی سفارت خانے میں ہی فلسطینی مزاحمتی قیادت کے ساتھ ملاقاتطے تھی۔

تاہم نیتن یاہو نے اس کے بارے میں کہاہے کہ اسرائیل غزہ جنگ کو حماس کی مکمل تباہی اور اپنے اہداف کے حصول تک جاری رکھے گا۔ تاکہ حماس اس حالت میں رہے کہ اسرائیل کے لیے دوبارہ خطرہ بن سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں