برطانیہ میں شاہ چارلس کی تصویر والے کرنسی نوٹ کیوں جاری کیے گئے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ نے ملکہ الزبتھ دوئم کی جانشینی کے لیے تخت سنبھالنے کے تقریباً دو سال بعد بدھ کو کنگ چارلس کی تصویر والے بینک نوٹوں کی گردش شروع کر دی۔

کنگ چارلس کی تصویر بینک آف انگلینڈ کے جاری کردہ پانچ، دس، بیس اور تیس یوروکے نوٹوں پر نظر آئے گی۔ اس کے ساتھ ملکہ الزبتھ کی تصویر والے بینک نوٹ گردش میں رہیں گے۔

بینک آف انگلینڈ نے کہا ہے کہ "یہ نقطہ نظر اس تبدیلی کے ماحولیاتی اور مالیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے شاہی خاندان کی رہ نمائی کا حصہ ہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام لوگ کنگ چارلس III کی تصویر والے سکے کم تعداد میں ہی دیکھیں گے۔

ملکہ الزبتھ انگلستان کے بینک نوٹوں کے علاوہ برطانوی بینک نوٹوں پر ظاہر ہونے والی پہلی شخصیت تھیں جن پر 1,000 سال سے زیادہ عرصے سے انگلینڈ کے بادشاہوں اور رانیوں کی تصاویر موجود ہیں۔

نئے بینک نوٹوں کا ڈیزائن دسمبر 2022ء میں سامنے آیا تھا، جس کے فوراً بعد بادشاہ چارلس کی تصویر والے سکے گردش کرنے لگے تھے۔ نئے بادشاہ کے برعکس بینک نوٹوں کے ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

برطانیہ میں گذشتہ چند سالوں میں نقدی کے استعمال میں تیزی سے کمی آئی ہے، کیونکہ صارفین ڈیبٹ کارڈز اور دیگر الیکٹرانک ادائیگی کے طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

برٹش ریٹیل کنسورشیم کے مطابق 2014ء میں اسٹور میں ہونے والی لین دین میں نصف سے زیادہ نقد رقم تھی لیکن 2021 تک یہ گر کر 15 فیصد رہ گئی۔

بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی نے بدھ کے روز کہا کہ "ہم اس وقت تک بینک نوٹ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں جب تک کہ عوام ان سے درخواست کریں۔ان نئے نوٹوں کو گردش میں لانا اس عزم کا ثبوت ہے"۔

برطانوی حکومت نے گذشتہ سال قانون سازی جاری کی تھی جس میں بینکوں سے نقد رقم تک آسان رسائی کو یقینی بنانے کے لیے نئی قوانین وضع کیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں