برطانیہ کے پولیس افسر کو حماس کی حامی تصاویر شیئر کرنے پر سزا

بریڈ فورڈ کے محمد عادل کا دہشت گردی ایکٹ کے تحت دو الزامات کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک برطانوی پولیس افسر کو حماس کی حمایت کرنے والے واٹس ایپ پیغامات کا اشتراک کرنے پر منگل کو 18 ماہ کی کمیونٹی سروس کی سزا سنائی گئی۔

شمالی انگلینڈ کے بریڈ فورڈ سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ محمد عادل نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت گذشتہ سال اکتوبر اور نومبر میں پیغامات بھیجنے کے دو الزامات کا اعتراف کیا۔

انہیں ڈیوٹی سے معطل کر دیا گیا ہے اور اب تادیبی کارروائی کا سامنا ہے جس میں ممکنہ برطرفی بھی شامل ہے۔

عادل کے بارے میں ویسٹ یارکشائر پولیس فورس کے دو ساتھیوں نے اطلاع دی اور کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) کے انسدادِ دہشت گردی ڈویژن نے فردِ جرم عائد کی۔

ڈویژن کے سربراہ بیتھن ڈیوڈ نے کہا، "محمد عادل سمجھ گئے تھے کہ ان کی اشتراک کردہ تصاویر سے یہ شبہ پیدا ہو گا کہ وہ ایک دہشت گرد تنظیم کی حمایت کر رہا تھے۔"

چیف مجسٹریٹ پال گولڈ سپرنگ نے پہلے عادل کو خبردار کیا تھا کہ جرائم "بہت سنگین" تھے اور انہیں جیل کی سزا ہو سکتی تھی۔

لیکن منگل کو انہوں نے کہا، حراستی سزا "غیر ضروری طور پر غیر متناسب" ہوگی۔

عادل کو پہلی بار 6 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور مئی میں وسطی لندن میں ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیشی سے پہلے ایک افسر کے طور پر معطل کر دیا گیا۔

انہوں نے حماس کی حمایت میں ایک تصویر شائع کرنے کے دو جرائم کا اعتراف کیا۔ حماس کو برطانیہ میں دہشت گرد تنظیم کے طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

یہ اس وقت ہوا جب اسرائیل نے حماس کے سات اکتوبر کے حملے کے جواب میں اعلانِ جنگ کیا۔

استغاثہ نے کہا کہ ان کے واٹس ایپ "اپ ڈیٹس" میں حماس گروپ کا ہیڈ بینڈ پہنے ہوئے گروپ کے ایک مزاحمت کار کی تصویر تھی۔

ایک پوسٹ میں عادل نے عنوان شامل کیا تھا: "آج فلسطینی عوام کے اٹھ کھڑے ہونے، اپنی راہیں درست کرنے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کرنے کا وقت ہے۔"

کہا جاتا ہے کہ یہ حماس کے عسکری ونگ کے رہنما محمد الضیف کا اقتباس تھا۔

دوسری پوسٹ کا عنوان تھا: "ہم ان تمام لوگوں کا احتساب کریں گے جنہوں نے ہماری زمینوں پر قبضہ کیا اور اللہ ان تمام لوگوں کا احتساب کرے گا جو اس قبضے اور جبر کے خلاف خاموش رہے۔"

یہ گروپ کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ کا بیان تھا۔

استغاثہ کے مطابق یہ پوسٹس عادل کے 1,092 واٹس ایپ روابط کے لیے 24 گھنٹے تک قابلِ رسائی تھیں۔

سزا سنائے جانے کے بعد ویسٹ یارکشائر پولیس کی تانیا ولکنز نے کہا، "اب ہم تادیبی کارروائی شروع کریں گے۔"

نیز انہوں نے کہا، "ہم تمام ملازمین پر واضح کر دیتے ہیں کہ پولیسنگ میں کام کرنے والے کسی بھی شخص کے لیے کسی ممنوعہ تنظیم کا رکن بننا یا اس کی حمایت کرنا مناسب نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں