جنگ بندی کی تجویز پر حماس کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں: سلیوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو ابھی بھی امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے اسرائیل کی جنگ بندی کی تجویز پر حماس کے جواب کا انتظار ہے۔

سلیوان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم قطری ثالثوں کے ذریعے حماس کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

امریکی اہلکار نے بتایا کہ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر غزہ میں مجوزہ جنگ بندی پر قطر سے بات چیت کے لیے دوحہ جائیں گے۔

حماس کے ساتھ ڈیل کرنا اب قابل قبول نہیں

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے حماس سے نمٹنے کے حوالے سے قطر کے ساتھ متعدد مذاکرات کیے ہیں۔اس نے دوحہ پر واضح کر دیا ہے کہ اسے حماس کے ساتھ سات اکتوبر سے پہلے کی طرح ڈیل کرنا اب قابل قبول نہیں ہے۔

دریں اثناء حماس کے رہ نما محمود المرداوی نے ’العربیہ‘ کو بتایا کہ حماس کو جنگ کے بعد کے دن غزہ پر بات کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، تاہم حماس غزہ کے انتظام کے حوالے سے فلسطینیوں کے علاوہ کسی اورکو قبول نہیں کرے گی۔

جنگ بندی اور جنگ کے بعد کے حوالے سے جو بائیڈن کی تقریر میں پیش کردہ نکات پرحماس نے مثبت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ پٹی میں جنگ بندی کے بغیر قیدیوں کے کسی بھی تبادلے کو قبول کرنا قابل قبول نہیں ہے۔ حماس غزہ کے حوالے سے تجویز کے بارے میں کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

بہترین موقع

دریں اثناء وائٹ ہاؤس نے منگل کو کہا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا خیال ہے کہ میز پر جنگ بندی کا معاہدہ غزہ سے قیدیوں کو نکالنے اور دشمنی ختم کرنے کا بہترین موقع ہے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نےکہا تھا کہ حماس غزہ میں جنگ بندی کی راہ رکاوٹ بن کر کھڑی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکہ اس تجویز کو مکمل کرنے کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔اس پر حماس نے ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

منگل کو کو’ٹائم میگزین‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ نیتن یاہو سیاسی وجوہات کی بنا پرغزہ میں جنگ کے خاتمے میں تاخیر کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں