اسرائیل کو غزہ جنگ پر بات چیت کے لیے یورپی یونین کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز کو غزہ کے بارے میں گفتگو کے لیے دعوت دے دی ہے۔ جوزپ بوریل نے یہ بات بدھ کے روز بتائی ہے کہ انہوں نے نیتن یاہو کو دعوت دی ہے۔

اس دعوت دے کر بلانے کا مقصد یورپی یونین کی طرف سے غزہ کی تازہ ترین صورت حال کو زیر بحث لانے کے علاوہ اس دوران یورپ کے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کا بھی جائزہ لینا ہے۔

27 رکنی یورپی یونین نے پچھلے ہفتے اس بارے میں اتفاق کیا تھا کہ وزیر خارجہ اسرائیل کاٹزکو بلا کر خصوصی اکٹھ کیا جائے۔ تاکہ یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تجارتی معاہدات کا بھی جائزہ لیا جائے۔

بوریل نے کہا یہ وقت ہے کہ جب اسرائیل کو غزہ میں بد ترین انسانی تباہی پر دباؤ میں لایا جائے۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کی اعلی ترین عدالت نے رفح میں حملہ روکنے کا کہا ہے۔ نیز انسانی حقوق کے احترام پر بات ہوسکے۔'

یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ گیند اب اسرائیلی کورٹ میں ہے۔ جیسا کہ محسوس کیا جارہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو غزہ کی جنگ کو ابھی طول دینا چاہتے ہیں۔

واضح رہے غزہ کی جنگ میں جہاں اسرائیل کے کٹر حامی ہیں وہیں فلسطین کے حمایتیوں کی تعداد بھی کم نہیں ۔ یہ سب جنگ کے بارے میں ایک موقف پر آنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

پچھلے ہفتے کے دوران تین یورپی ملکوں سپین، ناروے اور آئر لینڈ کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کا واقعہ بہت غیر معمولی ہے۔ اس سہہ ملکی فیصلے نے پورے یورپ کو از سر نو اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے تجارتی معاہدوں کا جائزہ لینے پر مجبور کیا ہے۔ غزہ کی اس جنگ میں اب تک 36586 فلسطینی ہلاک کیے جاچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں