حماس کو پیش کردہ جنگ بندی کی دستاویز میں کیا کیا شامل ہے؟ مزید تفصیل آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک معاہدے تک پہنچنے کے امکان کے بارے میں ابہام اور ہچکچاہٹ بدستور موجود ہے۔ اگر معاہدے پر اتفاق ہوتا ہے تو غزہ کی پٹی میں فائر بندی ہو گی اور دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوگا۔ امریکہ کی طرف سے اعلان کردہ تجویز کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ہفتے وضاحت کی تھی کہ اس تجویز کو اسرائیل نے تیار کیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ میں ڈیوڈ اگنٹیئس کے ایک مضمون کے مطابق مذاکرات کاروں (قطر، مصر اور امریکہ) نے بظاہر فلسطینی فریق کو ایک غیر مطبوعہ دستاویز پیش کی جس میں تجویز یا جنگ بندی پر عمل درآمد شروع کرنے کے بارے میں کچھ نکات واضح کیے گئے تھے۔ دوسری طرف بات چیت سے واقف ایک شخص نے تصدیق کی کہ اس دستاویز میں غزہ میں تنازعے کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے بعد تعمیر نو شروع کرنے کا ایک واضح راستہ شامل کیا گیا ہے۔

تجویز پر مبنی دستاویز کے مطابق جنگ بندی کے پہلے دن سے اسرائیل غزہ کی پٹی میں مزید انسانی امداد کے داخلے کی سہولت فراہم کرے گا۔ روزانہ 600 ٹرکوں کی شرح سے ٹرک داخل ہوں گے جن میں 50 ایندھن کے ٹرک بھی شامل ہیں۔ شمالی غزہ کو ان میں سے 300 ٹرک ملیں گے۔ وسطی غزہ پاور پلانٹ کو دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے درکار ایندھن فراہم کیا جائے گا۔

دستاویز میں پیش کردہ تجویز میں بتایا گیا ہے کہ اپنے گھروں سے بھاگنے پر مجبور فلسطینیوں کو کس طرح پناہ دی جائے۔ اس کے لیے کم از کم 60,000 عارضی موبائل گھر اور 200,000 خیمے فراہم کرنے کے لیے کام شروع کیا جائے گا۔ غزہ کے ہر کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ملبے کو ختم کیا جائے گا۔ دونوں فریقوں کے درمیان تجویز پر اتفاق ہو جانے کے بعد شہری بلڈوزر اور دیگر بھاری سامان کا استعمال کرتے ہوئے ملبے کو ہٹا دیا جائے گا۔

علاوہ ازیں توقع ہے کہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد پورے شعبے میں ہسپتالوں، طبی مراکز اور بیکریوں کی بحالی کا کام شروع ہو جائے گا۔ معاہدے کے بعد کے مراحل کے دوران ان بنیادی خدمات کو برقرار رکھا جائے گا۔ سڑکوں، بجلی، پانی، سیوریج اور مواصلاتی نظام سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے بھی کام آہستہ آہستہ شروع ہو جائے گا۔ اسرائیل نے ضروری سامان کے داخلے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ، مصر اور قطر تباہ شدہ گھروں، سکولوں اور زندگی کی دیگر بنیادی چیزوں کی جامع تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی بھی قیادت کریں گے۔

اس دستاویز سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر دونوں فریق معاہدے پر دستخط کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو مہینوں کی تباہی، موت اور قحط کے قریب آنے کے بعد بالآخر ایک نیا غزہ ابھرے گا۔ واضح رہے بائیڈن کی جانب سے گزشتہ جمعے کو ظاہر کی گئی اس تجویز کو باضابطہ طور پر منظور کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت ابھی بھی جاری ہے۔

غزہ کی پٹی میں امداد لے جانے والے ٹرک - اے ایف پی

لیکن پس پردہ مثبت بیانات کے باوجود نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی حکومت ابھی تک اس تجویز کی منظوری کا باضابطہ اعلان کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ حالانکہ امریکی انتظامیہ نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیل نے پہلے خود یہ تجویز پیش کی تھی۔

دوسری طرف حماس اس معاہدے کے تین مراحل کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ تیسرا مرحلہ لامحالہ جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن جائے۔ تل ابیب مستقل جنگ بندی کو مسترد کر رہا ہے۔ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے بدھ کو کہا ہے کہ حماس جنگ بندی کے منصوبے کے فریم ورک کے اندر جنگ کے خاتمے اور اسرائیل کے انخلاء کا مطالبہ کرے گی جس سے بائیڈن کی تجویز کو دھچکا لگ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں