سوڈان کی الجزیرہ ریاست میں لڑائی، لاشوں کے ڈھیر،فریقین کے ایک دوسرے پر الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم سے کچھ فاصلے پر الجزیرہ ریاست میں واد النورہ گاؤں میں فوج اور اس کی حریف ’آرایس ایف‘ کے درمیان لڑائی میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے ہیں۔

سوڈان کی ریاست الجزیرہ کے گاؤں واد النورہ سے آنے والے مناظر گذشتہ گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ جہاں ہر طرف لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

سوڈانی خودمختاری کونسل کی جانب سےدعویٰ کیا گیا ہے کہ تمام یہ تمام لوگ ’آر ایس ایف‘ کے حملوں میں مارے گئے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں شہریوں کے خلاف "قتل عام" ہوا ہے۔ تدفین کی تیاری کے دوران کے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجنوں لاشوں کو چار پائیوں پر رکھا گیا ہے اور ان کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی جا رہی ہے۔

اس واقعے کے مناظر کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے ساتھ ساتھ سوڈان میں جنگی جرائم کے ارتکاب کی باتین ہونے لگی ہیں۔

’خوفناک قتل عام‘

سوڈان کی خود مختاری کونسل کی جانب سے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) پر الزام لگایا گیا ہے اس نے واد النورہ میں غیر مسلح شہریوں کے خلاف "گھناؤنے قتل عام" کا ارتکاب کیا ہے۔

خود مختار کونسل کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ’آر ایس ایف‘ نے شہریوں کے خلاف جنگی جرم کیا اور بڑی تعداد میں بے گناہ لوگوں کی جان لے لی"۔

100 سے زائد ہلاک

دوسری طرف سوڈانی کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ گاؤں پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے حملے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

انہوں نے حملہ آور فورسز پر "بڑے پیمانے پر ڈکیتی اور لوگوں کی املاک، گھروں اور کاروں میں لوٹ مار کا بھی الزام لگایا‘‘۔

’آر ایس ایف‘ قتل عام کی تردید

دوسری طرف ریپڈ سپورٹ نے کسی بھی قتل عام کی تردید کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے گاؤں پر حملہ کرنے والے فوجی دستوں کی کوشش کو پسپا کیا۔ اس نے آج صبح کے وقت ایک بیان میں وضاحت کی کہ "فوج نے دارالحکومت کے جبل اولیاء میں حملہ کرنے کے لیے المناقل کے مغرب میں واد النورہ گاؤں میں تین سب سے بڑے کیمپوں سے بڑی افواج کو متحرک کیا۔

اس نے کہا کہ آر ایس ایف نے " فوج، جنرل انٹیلی جنس سروس اور الزبیر بن العوام بریگیڈ جو اسلام پسندوں سے وابستہ ہے پرجوابی حملہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ محمد حمدان دقلو کی قیادت میں ریپڈ سپورٹ فورسز نے گزشتہ دسمبر (2023ء) سے الجزیرہ ریاست پر کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔

عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی ہفتوں کی کشیدگی کے بعد اپریل 2023 کے وسط میں اچانک شروع ہوگئی۔ اس وقت فوجی اور سویلین جماعتیں بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ سیاسی جماعتوں پر مشتمل حکومت کو حتمی شکل دے رہی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں