فلسطین کی حمایت میں احتجاج، یونیورسٹی صدر کے دفتر پر قبضہ کرنے والے طلبا گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی پولیس نے کیلیفورنیا کی سٹینفورڈ یونیورسٹی میں فلسطین کی حمایت میں احتجاج کے دوران یونیورسٹی صدر کے دفتر پر قبضہ کرنے والے ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔

طلباء کے اخبار دی سٹینفورڈ ڈیلی کے مطابق موسم بہار کی سہ ماہی کی کلاسز کے آخری دن تقریباً 10طلباء صبح 5:30 بجے کے قریب عمارت میں داخل ہوئے جبکہ تقریباً 50 طلباء نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا اور "فلسطین آزاد ہو گا" کے نعرے لگائے۔

انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لبریٹ سٹینفورڈ نامی گروپ نے کہا، "طلباء کے ایک خود مختار گروپ" نے یونیورسٹی کے صدر رچرڈ سیلر کے دفتر پر قبضہ کر لیا ہے۔ دیگر مطالبات کے علاوہ طلباء نے تعلیمی ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ سے منسلک کمپنیوں سے مالی معاملات میں علاحدگی اختیار کرے اور سرمایہ کاری ختم کرے۔"

سٹینفورڈ ڈیلی کے مطابق مظاہرہ شروع ہونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد پولیس نے عمارت میں داخل ہونے کے لیے ایک کدال کا استعمال کیا۔

ایک بیان میں سکول نے کہا کہ عمارت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے 13 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

یونیورسٹی نے کہا، "عمارت کے اندرونی اور بیرونی حصے کو کافی نقصان پہنچا ہے اور دن کے باقی حصے میں کوئی عمارت میں داخل نہیں ہو گا۔"

اخبار نے کہا کہ گرفتار طلباء میں سٹینفورڈ ڈیلی کا ایک رپورٹر بھی شامل تھا۔

حالیہ مہینوں میں مظاہرے کرنے، کیمپ لگانے اور کچھ معاملات میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف احتجاج کی غرض سے عمارات پر قبضہ کرنے کے بعد امریکہ کے تعلیمی اداروں میں سینکڑوں طلباء کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق 36,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں