پاکستان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کو 2026 ۔2025 کی مدت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کرلیا گیا ہے۔ پاکستان کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انتخابات میں زبردست حمایت حاصل ہوئی ہے۔

انتخابات میں پاکستان نے 193 رکنی جنرل اسمبلی میں 182 ووٹ حاصل کیے جو کہ 124 ووٹوں کی مطلوبہ دو تہائی اکثریت سے کافی زیادہ ہے۔

چونکہ ووٹنگ کا عمل خفیہ تھا، اس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان کے خلاف کن ممالک نے ووٹ کیا۔ البتہ اقوام متحدہ کے بعض سفارت کاروں نے بھارت، اسرائیل اور آرمینیا کو پاکستان کی مخالفت کرنے والے ممالک کے طور پر نشاندہی کی ہے۔

جب جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس نے پانچ غیر مستقل نشستوں کے فاتحین کا اعلان کیا، تو ایوان کا ہال زوردار تالیوں سے گونج اٹھا۔

پاکستان، ڈنمارک، یونان، پاناما اور صومالیہ سکیورٹی کونسل کے نئے رکن ہیں، جو جاپان، ایکواڈور، مالٹا، موزمبیق اور سوئٹزرلینڈ کی جگہ لیں گے۔ ان کی مدت 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ فرانسس نے نئے اراکین کو ان کی جیت پر مبارکباد پیش کی۔

پاکستان یکم جنوری 2025 سے ایشیائی نشست پر جاپان کی جگہ لے گا اور کونسل میں اپنی آٹھویں مدت کا آغاز کرے گا۔ اس سے پہلے وہ سات بار سکیورٹی کونسل میں غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے چکا ہے۔ وہ اگلے دو برس تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایشیا پیسیفک گروپ کی نمائندگی کرے گا۔

سلامتی کونسل کی 10 غیر مستقل نشستوں کو چار علاقائی گروپوں کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے، جو افریقہ، ایشیا، مشرقی یورپ، لاطینی امریکہ اور کیریبین نیز مغربی یورپی اور دیگر ریاستوں کے گروپ پر مشتمل ہے۔

دفتر خارجہ کا بیان

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تمام اراکین کے پاکستان پر اعتماد کرنے اور اسے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کرنے پر شکر گزار ہیں، کونسل کے لیے پاکستان کے بطور امیدوار توثیق کرنے پر ہم ایشیا پیسیفک گروپ کے اراکین کے بھی مشکور ہیں۔

بیان کے مطابق غیر مستقل رکن کے طور پر آٹھویں مرتبہ منتخب ہونے کے بعد پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے ایک بھرپور تجربہ اور بین الاقوامی امن و سلامتی کی بحالی کے لیے شراکت کی مضبوط میراث لے کر آیا ہے جس کا اظہار اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں سمیت چارٹر کے ساتھ دنیا کے کئی خطوں میں اقوام متحدہ کی امن قائم کرنے اور قیام امن کی کوششوں پر سختی سے عمل پیرا ہونے سے ہوتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی آنے والی مدت میں تصفیہ طلب اور جاری تنازعات کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے پرعزم رہے گا اور وہ یکطرفہ اور غیر قانونی طاقت کے استعمال یا طاقت کے استعمال کی دھمکی کے حربے، ہر قسم کی دہشت گردی کے مقابلہ، اقوام متحدہ کی مؤثر قیام امن کی حمایت، امن کے نفاذ اور قیام امن کی کوششوں کی حمایت سمیت علاقائی اور عالمی بحرانوں کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ارکان اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو برقرار رکھنے اور جنگ کی روک تھام اور امن کو فروغ دینے کے وژن پر عمل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی وسیع تر رکنیت کے ساتھ عالمی خوشحالی کو فروغ دینے اور انسانی حقوق کے عالمی احترام کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کرنے کا منتظر ہے۔

وزیر اعظم کی مبارکباد

ادھر وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے سال 26-2025 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن کے طور پر انتخاب پر مسرت کا اظہار اور قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ یقیناً یہ ایک قابل فخر لمحہ ہے، 182 ووٹ لے کر اقوام متحدہ کا رکن منتخب ہونا امن اور سلامتی کے لیے ہماری قوم کے عزم کا ثبوت ہے۔


پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے ہال سے نکلتے ہی جیت پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ''پاکستان کا انتخاب اس بات کا مظہر ہے کہ عالمی برادری کو اس بات پر اعتماد ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔''

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان مشترکہ مقاصد، بالخصوص تنازعات کو روکنے اور انہیں پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے، کونسل کے دیگر اراکین کے ساتھ مل کر فعال طور پر کام کرے گا۔

ترجیحات کیا ہوں گی؟

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ ''جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کو فروغ دینا'' پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے اصول کو برقرار رکھنا اور افغانستان میں حالات کو معمول پر لانے جیسے مسائل بھی اہم مقاصد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افریقہ میں سیکورٹی چیلنجوں کا مساوی حل تلاش کرنا اور اقوام متحدہ کے امن مشن کی تاثیر کو بڑھانا ہے۔ اکرم نے مزید کہا، ''پاکستان اپنی مدت کے دوران ان علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔''

اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کا دیرینہ تعاون شامل رہا ہے اور اس وقت دنیا بھر میں اس کے 4000 سے زیادہ فوجی اور دیگر اہلکار تعینات ہیں۔ گزشتہ 50 سالوں میں پاکستان نے ان مشنوں میں اپنی شمولیت کے ذریعے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں