یورپ کے پارلیمانی انتخابات سے متعلق پانچ اہم معلومات جن کا جاننا ضروری ہے!

720 رکنی یورپی پارلیمان کے انتخابات میں 27 رکن ممالک کے تقریباً 373 ملین اہل ووٹزر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

یورپی یونین کے پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہو گئی ہے جبکہ اس کے نتائج کا اعلان اتوار کی رات ہو گا۔

ستائیس رکنی یورپی یونین کے پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ شروع ہو گئی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ دائیں بازو کی کٹر لیڈر شپ کو اس سے پولنگ کے نتیجے میں فوائد زیادہ ملیں گے۔

یورپی ملک ایسٹونیا کے رہنے والے پیر سے شروع ہونے والے مسلسل چھ دنوں میں اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ تاہم نیدرلینڈز یورپی یونین کا واحد ملک ہے جس نے اپنے ووٹوں کے ڈالنے کے لیے صرف ایک دن کافی سمجھا ہے۔ نیدر لینڈ میں پولنگ کے لیے جمعرات کا دن پسند کیا گیا ہے۔

آئر لینڈ کے شہری جمعہ کے روز ووٹنگ کا حصہ بنیں گے جبکہ ہفتے کے آخر میں یورپی یونین کے باقی رکن ملکوں میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کرائی جائے گی۔

پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا اعلان تمام رکن ممالک میں ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد اتوار کی رات کو شروع کر دیا جائے گا۔

ڈچ ووٹنگ گیرٹ وائلڈرز کی انتہائی دائیں بازو کی یورپی جماعت 'پارٹی فار فریڈم' نے محض چند ماہ کے اندر اندر ڈچ قومی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی پارٹی بن کر پورے یورپ میں آگے آئی ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یورپی دنیا میں آنے والے برسوں میں کٹر مذہبی خیالات نمایاں رہیں گے۔

جیسا کہ پولنگ سے پتہ چلتا ہے کہ نیدر لینڈ کے وائلڈرز اس مقبولیت کو آگے بڑھائیں گے اور اگلے برسوں میں یورپی بلاک کے خیالات اور لہجے کو ترتیب لگانے کا کام یہی جماعت اور اس کے ہم خیال یورپی ملک اور ان کے دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے باشندے کریں گے۔

واضح رہے پانچ برس قبل یورپی یونین کے آخری انتخابات کے بعد سے، پاپولسٹ، انتہائی دائیں بازو اور انتہا پسند جماعتیں یورپی یونین کے تین ممالک میں حکومتوں کی قیادت کر رہی ہیں۔

یہ انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں اگر کسی اور بر اعظم سے تعلق کی حامل ہوتیں تو انہیں عام طور پر رجعت پسند یا انتہا پسند اور شدت پسند کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

بہر حال یہ انتہائی دائیں بازو کی سوچ دنیا کے دیگر کئی ممالک میں حکومتی جماعتوں میں بھی نظر آتی ہے۔

یہاں تک کہ لبرل اور ڈیموکریٹس میں بھی شدت پسندی کے رجحان کو فروغ مل رہا ہے۔ برطانیہ جس نے ہورپی یونین کو چھوڑ دیا ہے میں بھی پچھلے کئی برسوں سے دائیں بازو کی جماعت کی حکمرانی میں ہے۔

پورپی پارلیمان کیا ہے؟

یورپی پارلیمنٹ (ای پی) یورپی یونین (ای یو) کا واحد براہ راست منتخب ادارہ ہے، جو اس کے رکن ممالک کے شہریوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ (ای پی) یورپی یونین (ای یو) کے رکن ممالک کے شہریوں کی نمائندگی کرنے والا واحد براہ راست منتخب ادارہ ہے۔ اس کے بنیادی کاموں میں یورپی یونین کے قوانین کے سلسلے میں رکن ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ بات چیت کرنا شامل ہے، جن کی نمائندگی یورپی کونسل کرتی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ یورپی یونین کے بجٹ کو بھی منظور کرتی ہے اور بین الاقوامی معاہدوں نیز بلاک کی توسیع پر ووٹ دیتی ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کی اہم ذمہ داریوں میں یورپی کمیشن کے صدر اور کمشنروں کی تقرری کو منظوری یا مسترد کرنے کا اختیار بھی شامل ہے۔ جرمنی کی ارزولا فان ڈیئر لائن فی الحال یورپی کمیشن کی صدر ہیں۔

قومی پارلیمانوں کے برخلاف یورپی پارلیمان کو قوانین تجویز کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور وہ یورپی کمیشن کی تجاویز پر صرف گفت و شنید کرسکتے ہیں۔

یورپی پارلیمان 720 اراکین پر مشتمل ہے۔ اس کے لیے ہر پانچ سال پر انتخاب ہوتا ہے۔ اس کے بعد پارلیمان کے منتخب اراکین ڈھائی سال کی مدت کے لیے اپنے صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ اٹلی کے رابرٹا میٹ سولا اس وقت یورپی پارلیمان کے رخصت پذیر صدر ہیں۔

کون ووٹ دے سکتا ہے؟

اکیس رکن ممالک میں 18سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگ ووٹ دے سکتے ہیں، جب کہ بیلجیئم، جرمنی، آسٹریا اور مالٹا میں ووٹ ڈالنے کی کم سے کم عمر 16سال ہے۔ یونان میں 17سال کے شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جب کہ ہنگری میں عمر سے قطع نظر شادی شدہ افراد ووٹ دے سکتے ہیں۔

یورپی یونین کے شہری اپین آبائی ملک یا کسی بیرونی ملک سے بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ چیک، آئر لینڈ، مالٹااور سلوواکیہ کو چھوڑ کر دیگر رکن ملکوں کے شہری بیرون ملک سے بھی ووٹ د ے سکتے ہیں۔ بلغاریہ اور اٹلی میں یہ حق صرف یورپی یونین میں رہنے والو ں کو حاصل ہے۔

یورپی یونین کے دیگر ممالک کے شہری امیدواروں کو اپنے آبائی ملک یا وہ جس ملک میں مقیم ہیں وہاں سے بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔

لیکن ووٹر صرف ان اراکین کو منتخب کر سکتے ہیں جن ملکوں کے وہ شہری ہیں۔

ووٹ کیسے دیں؟

کچھ رکن ممالک میں ووٹر صرف طے شدہ فہرستوں سے ہی امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں انہیں ترجیحی امیدواروں کے لیے ترتیب میں تبدیلی کی اجازت نہیں ہے لیکن بعض ملکوں میں ووٹر ترجیحی نظام میں کسی امیدوار کو منتخب کر سکتے ہیں۔

قومی قوانین پر منحصر بعض ممالک میں ووٹر بیرون ملک اپنی قومی سفارت خانوں یا بذریعہ ڈاک یا الیکٹرانک میل کے ذریعے بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔

الیکشن میں کون حصہ لے سکتا ہے؟

کوئی بھی ووٹر اپنے ملک کے لحاظ سے امیدوار یا سیاسی جماعتوں کے مندوبین میں سے انتخاب کرسکتا ہے۔ایک بار منتخب ہوجانے کے بعد ہر ملک کے سیاست داں یورپی گروپوں میں شامل ہوتے ہیں جو سیاسی رجحانات کی بنیاد پر پارلیمان تشکیل دیتے ہیں۔

جرمنی سمیت کچھ رکن ممالک صرف سیاسی جماعتوں یا سیاسی انجمنوں کے ذریعہ نامزد کیے گئے امیدواروں کوہی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دیتے ہیں۔

منتخب افراد قومی حکومتوں یا دیگر سیاسی اداروں مثلاً یورپی یونین کمیشن، کورٹ آف جسٹس، کورٹ آف آڈیٹرز وغیرہ میں کام نہیں کر سکتے۔ تمام امیدواروں کے لیے یورپی یونین کا شہری ہونا ضروری ہے۔

سن 2024 کے انتخابات کے لیے پیش گوئیاں

یورپی یونین کی شماریاتی ایجنسی یورو اسٹیٹ کی طرف سے اپریل میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق یورپی یونین کے ہر 10 شہریوں میں سے چھ نے ان انتخابات میں ووٹ دینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

جارجیا میلونی - اٹلی کی وزیر اعظم - رائٹرز
جارجیا میلونی - اٹلی کی وزیر اعظم - رائٹرز

اپریل میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق یورپی یونین کی 720 دستیاب نشتوں میں اعتدال پسند یورپی پیپلز پارٹی 183نشتیں جیت سکتی ہے۔ بائیں بازو کی جماعت پروگریسیو الائنز آف سوشلسٹس اینڈ ڈیموکریٹس (ایس اینڈ ڈی) کے 140 نشتیں، رینیو یورپ (آر ای) اور یوریپیئن کنزرویٹیو اینڈ ریفارمسٹ دونوں میں سے ہر ایک کے 86 نشتیں، آئیڈینٹیٹی اینڈ ڈیموکریسی کے 84 نشتیں جیتنے کی امید ہے جب کہ دیگر جماعتیں بقیہ 141 نشتیں جیت سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں