جوبائیڈن کا جنگ بندی فارمولہ محض الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے : حماس رہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حماس کے ایک سینئیر رہنما نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے پیش کیے گئے فارمولے کے بارے میں صاف کہہ دیا ہے یہ محض لفظوں کا گورکھ دھندہ ہے ۔ اس کے ساتھ حماس کو امریکہ کی طرف سے کوئی ایسی تحریری یقین دہانی نہیں کرائی گئی جو اس بات کی مظہر ہو کہ جوبائیڈن جو کچھ کہہ رہے ہوں اس پر عمل بھی کیا جائے گا۔ اس امر اظہار فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے بیروت میں مقیم سینئیر رہنما اسامہ حمدان جمعرات کے روز کیا ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے پچھلے جمعہ کے روز اپنے اعلان کردہ تین مرحلوں پر مبنی غزہ جنگ بندی فارمولے کو روڈ میپ کا نام دیا تھا۔ تین مراحل میں یہ بنیادی باتیں شامل تھیں۔ جاری جنگ ختم ہوگی ، یرغمالیوں کی رہائی ہوگی اور اسرائیلی فوج کی بمباری سے آٹھ ماہ میں بدترین تباہی کو پہنچنے والے غزہ کی تعمیر نو ایسے حالات میں شروع ہو گی کہ غزہ پر حماس بر سر اقتدار نہیں ہوگی۔

مگر بیروت میں موجود حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'ایسی کوئی باضابطہ تجویز نہیں دی گئی ہے۔ یہ محض جوبائیڈن کی تقریر میں کہی ہوئی باتیں ہیں۔ '

ان کا کہنا تھا' ابھی تک ہمیں امریکیوں کی طرف سے ایسی کوئی تجویز لکھی ہوئی شکل میں نہیں دی کی گئی۔ نہ کوئی تحریری دستاویز ہے اور نہ کوئی ایسا وعدہ ہے۔ جیسا کہ جوبائیڈن نے اپنی تقریر میں کہا ہے۔ '

حماس رہنما نے مزید کہا ' اصل بات یہ ہے کہ جوبائیڈن اسرائیل کے اس انکار کو اپنی تقریر کے ذریعے 'کور اپ ' دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو انکار اسرائیل نے ماہ مئی کے شروع میں حماس کی طرف سے منظور کردہ تجاویز پر کیا ہے۔'

اسامہ حمدان نے کہا ' حماس ہر اس جنگ بندی کی ڈیل کو قبول کرے گی جو حماس کے دو بنیادی نکات 'مکمل جنگ بندی' اور 'علاقے سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا ' کو تسلیم کرتی ہو۔'

واضح رہے امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے تقریر میں پیش کیے گئے' روڈ میپ' کے فوری بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے رد عمل میں اسے جزوی اور جانبدارانہ قرار دیا تھا۔

اس اعلان سے قبل امریکہ قطر اور مصر کے ساتھ کئی ماہ تک غزہ میں جنگ بندی کے لیے نکات اور تفصیلات طے کرنے میں مصروف رہا ہے۔اس کے نتیجے میں اب تک صرف ماہ نومبر کے اواخر میں ہونے و الی عارضی جنگ بندی ہوسکی ۔جس کے نتیجے میں ایک سو سے زائد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو گئی۔ اس کے بعد کوئی جنگ بندی ہوسکی ہے نہ جنگ میں عارضی وقفہ ممکن ہوا۔

.اب تک کی تقریبا پورے آٹھ ماہ کی غزہ جنگ میں اسرائیلی فوج نے 36654 فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔ جن میں بہت بڑی تعداد فلسطینی بچوں، بچیوں اور عورتوں کی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے پیش کردہ اعدادو شمار کے مطابق حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے غزہ میں ابھی تک لگ بھگ 120 یرغمالیوں کو قیدی کے طور پر رکھا ہوا ہے اور ان میں سے اسرائیل کے کہنے کے مطابق 41 یرغمالی ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں