مصر اور اسرائیل کا اجلاس ناکام، رفح کراسنگ نہیں کھولی جا سکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گزشتہ ہفتوں کے دوران مصر نے بارہا کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کے جنوبی مقام رفح کی بارڈر کراسنگ کو عسکری بنانا اس کو بند کرنے اور ٹرکوں کے داخلے میں رکاوٹ کا باعث بنا ہے۔ پھر دونوں ملکوں نے ایک فارمولے تک پہنچنے کے لیے مشاورت شروع کردی اور امید ظاہر کی گئی کہ غزہ کے لیے اس اہم زمینی راہداری کو کھول دیا جائے گا۔

تاہم کراسنگ کھولنے کے حوالے سے گزشتہ اتوار کو امریکی، مصری اور اسرائیلی حکام کے اجلاس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور رفح کراسنگ کو دوبارہ نہیں کھولا جا سکا ہے۔

اسرائیلی انکار

رفح کراسنگ کھولنے پر بات چیت کی ناکامی کی وجہ اسرائیلی فریق کی جانب سے اس سٹریٹجک سائٹ کو چلانے میں فلسطینی اتھارٹی کے لیے کسی بھی کردار کی اجازت دینے سے انکار ہے۔ اس کی تصدیق چار امریکی اور اسرائیلی حکام نے کی ہے۔ قاہرہ میں ہونے والی اس ملاقات میں امریکی قومی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کے سینئر ڈائریکٹر ٹیری وولف کی سربراہی میں ایک امریکی وفد نے شرکت کی۔ اسرائیلی وفد کی قیادت مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حکومت کے رابطہ کار جنرل غسان علیان نے کی۔ اسرائیلی وفد میں شاباک کے اہلکار بھی موجود تھے۔ مصر کی جانب سے انٹیلی جنس سروسز اور فوج کے اہلکار وفد کا حصہ تھے۔

ویب سائٹ ایکسیوس نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ ملاقات کے دوران امریکہ اور مصر نے فلسطینی طرف کا انتظام فلسطینی اتھارٹی کے نمائندوں کو سونپتے ہوئے کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے امکان کی تجویز پیش کی۔

330 فلسطینیوں کی فہرست

امریکی وفد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی نے غزہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 300 فلسطینیوں کی ایک فہرست تیار کی ہے جو کراسنگ پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان 300 میں سے کسی کا تعلق حماس سے نہیں ہے۔ اسرائیلی وفد نے تصدیق کی کہ وہ فہرست میں شامل فلسطینیوں کی جانچ پڑتال کے لیے تیار ہے۔ جانچ پڑتال کے بعد یورپی یونین کے مبصرین کے ساتھ مل کر ان افراد کو کراسنگ چلانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ یاد رہے حماس کے غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے سے قبل بھی کراسنگ کا انتظام اسی طرح چلا کرتا تھا۔

لیکن پھر اسرائیل نے انہیں فلسطینی اتھارٹی کے سرکاری نمائندوں کے طور پر بلکہ مقامی سویلین کمیٹی کے طور پر کراسنگ کا انتظام سپرد کرنے سے انکار کر دیا۔ اسرائیل کے اس اقدام کو مصری فریق اور فلسطینی اتھارٹی دونوں نے مسترد کر دیا۔

رفح راہداری کا منظر
رفح راہداری کا منظر

نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی

مصریوں نے اس معاملے پر بعد میں بات کرنے کے لیے فلسطینی اتھارٹی میں انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر میجر جنرل ماجد الفراج کے ساتھ فالو اپ میٹنگ کی تجویز پیش کی ہے۔ یاد رہے گزشتہ مہینوں کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی انتظامیہ کے اہلکاروں کے ساتھ ہونے والی تقریباً ہر ملاقات میں فلسطینی اتھارٹی کی غزہ کے انتظام میں کسی بھی شکل شرکت کو مسترد کر دیا ہے۔

نیتن یاھو اب بھی غزہ کی حکمرانی فلسطینی اتھارٹی کو دینے سے انکار کرتے اور اس پر حماس کے تحفظ کا الزام لگاتے ہیں اسرائیل اس وقت یا جنگ کے بعد بھی حتی کہ رفح کراسنگ کے انتظام میں بھی فلسطینی اتھارٹی کے کسی کردار کو مسترد کر رہا ہے۔

باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ نیتن یاہو اس پالیسی سے مکمل طور پر تصادم اختیار کر رہے ہیں جو چند روز قبل جنگی کابینہ میں منظور کی گئی تھی۔ اس پالیسی میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل رفح کراسنگ کو حماس کے علاوہ کسی بھی فلسطینی حکومتی ادارے کے ذریعے چلانے پر رضامند ہوگا۔

واضح رہے اسرائیل اور مصر کے درمیان کشیدگی گزشتہ ہفتوں کے دوران اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب 7 مئی کو رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے پر اسرائیلی افواج نے کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ قاہرہ نے اصرار کیا ہے کہ جب تک اس پر اسرائیلی کنٹرول برقرار ہے کراسنگ کو نہ کھولا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں