فلسطینی اتھارٹی کی ٹوٹ پھوٹ اسرائیلی سلامتی کے لیے خطرہ ہوگی : امریکی انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کو امریکہ کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز روکے جانے سے فلسطینی اتھارٹی ٹوٹتی ہے تو اس کےاثرات بہت برے ہوں گے۔
حتی کہ اتھارٹی کے ٹوٹنے کے اثرات خود اسرائیل پر بھی بہت منفی ہوں گے۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ امریکہ نے اپنے اتحادی پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے روکے ہوئے محصولات کی آمدنی بحال کی جائے۔ اس امر کا کھلے عام اظہار امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے صحافیوں سے بات چیت میں کیا۔

ترجمان نے کہا ' اسرائیل کی حکومت پر ہم نے براہ راست واضح کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا خاتمہ اسرائیل کے لیے سب سے بڑے سٹریٹجک نقصان کے مترادف ہو گا۔ اور اس کے خلاف کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی نے مغربی کنارے میں استحکام برقرار رکھنے میں بہت ساتھ دیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی حریف حماس کے ساتھ اسرائیل کی غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد بھی کوئی مسئلہ نہیں ہونے دیا۔

امریکی ترجمان نے کہا' اگر آپ فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے اور مغربی کنارے میں عدم استحکام کو پھیلتے دیکھتے رہے تو یہ صرف فلسطینیوں کے لیے مسئلہ نہیں ہو گا۔یہ
خود اسرائیلی ریاست کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بنے گا۔'

یاد رہے 1990 کی دہائی میں اوسلو معاہدے کے تحت، اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے بھی ٹیکسوں کی رقم جمع کر رہا ہے، ٹیکسوں سے ملنے والی یہ رقم فلسطینیوں کا حق ہے اس لیے ان کو ملنی چاہیے مگر اسرائیل جب چاہتا ہے اس رقم کو روک لیتا ہے۔ جیسا جنگ کے شروع سے ہی اسرائیل نے یہ رقم روک رکھی

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں