’نیتن یاہو روس میں داخل ہونے والے تھے‘: جوبائیڈن کی زبان پھر پھسل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی زبان کی پھسلن لامتناہی ہوتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر گشتہ چند گھنٹوں ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں بائیڈن کی ایک نئی لرزش دکھائی گئی ہے۔

’اے بی سی‘ کو انٹرویو کے دوران جب براڈکاسٹر نے بائیڈن سے پوچھا کہ کیا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ان کی بات سن رہے ہیں، خاص طور پر رفح شہر پر حملے کے حوالے سے تو امریکی صدر نے جواب دیا "وہ ان کی بات سن رہے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ وہ(نیتن یاھو) میری بات سنتے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ وہ روس میں داخل ہونے والے تھے مگر نہیں گئے۔ جاتے‘‘۔ امریکی صدر ’رفح‘ کہنا چاہتے تھے مگر ان کی زبان پھسل گئی اور وہ رفح کے بجائے روس کہہ بیٹھے۔

انہوں نے کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ وہ میری بات سن رہےہیں، ان کے سپاہی رفح جانے کے لیے پرعزم تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ شہر میں بڑے پیمانے پراندر نہیں گھسے‘‘۔

صدر جوبائیڈن نے واضح کیا کہ اسرائیل رفح میں محدود آپریشن سے مطمئن ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ دنوں اسرائیلی افواج اور ٹینک شہر کے مرکز میں پہنچ چکے ہیں۔

زبان کی پھسلن معمول بن چکی

بائیڈن کی غلطیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب رائے عامہ کے جائزوں میں امریکی صدر کی ذہنی تندرستی کے بارے میں بڑے پیمانے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بائیڈن اب تک کے سب سے معمر امریکی صدر ہیں اور اگر وہ 2029ء میں اپنی دوسری مکمل مدت پوری کرتے ہیں تو ان کی عمر 86 برس ہو جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں