نیتن یاہو 24 جولائی کو امریکی کانگریس سے خطاب کریں گے

دعوت خطاب دوران جنگ اظہار یکجہتی کے لیے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم 24 جولائی کو امریکی کانگریس سے خطاب کے لیے امریکہ جائیں گے۔ اس کانگریس سے خطاب کی دعوت پچھلے ہفتے کانگریس کے ارکان کی طرف سے دی گئی تھی۔ اس امرکے اظہار میں اس معاملے سے جڑے ذرائع نے جمعرات کے روز کیا ہے۔

انہیں امریکہ کی دونوں جماعتوں کے درمیان پائی جانی والی انتخابی و سیاسی تقسیم کے باوجود دونوں اطراف کے ارکان نے دعوت دی یے تاکہ غزہ جنگ کی اس صورت حال میں اپنے دیرینہ اتحادی کے لیے حمایت کا اعادہ کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں تاریخ کا تعین التوا میں تھا ۔ اب یہ تاریخ 24 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

بہت سے اسرائیلی ان سے شرائط قبول کرنے پر زور دیتے رہے ہیں لیکن ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ ان کی اتحادی حکومت چھوڑ دیں گے۔ نیتن یاہو نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کو "نان اسٹارٹر" قرار دیا جب تک کہ جنگ کے خاتمے کے لیے دیرینہ شرائط پوری نہیں ہو جاتیں، بظاہر اس تجویز کو نقصان پہنچاتی ہے جسے بائیڈن نے اسرائیلی قرار دیا تھا۔

مائیک جانسن نے سب سے پہلے اسرائیلی رہنما کو مدعو کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ انہیں مدعو کرنا "میرے لیے بہت بڑا اعزاز" ہوگا۔ ان کا یہ اقدام امریکہ میں اعلیٰ ترین یہودی منتخب عہدیدار شومر کی سینیٹ کے فلور پر ایک طویل تقریر میں نیتن یاہو کی سخت سرزنش کے فوراً بعد سامنے آیا۔ شمر نے تقریر میں کہا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کی مہم کے دوران نیتن یاہو "اپنا راستہ کھو چکے ہیں"۔ اس کے باوجود، شمر نے کہا تھا کہ وہ اس دعوت میں شامل ہوں گے کیونکہ "اسرائیل کے ساتھ ہمارے تعلقات مضبوط ہیں اور کسی ایک وزیر اعظم یا صدر سے بالاتر ہیں۔"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں