اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا آپریشن امریکی مدد سے ممکن ہوا:امریکی عہدیدار کاانکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی جانب سے ہفتے کے روز وسطی غزہ میں حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد چار قیدیوں کی بازیابی کے اعلان کے ساتھ ہی ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس پیچیدہ آپریشن میں امریکہ نے اسرائیل کی مدد کی تھی۔

’تمام یرغمالی تندرست ہیں‘

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز یہ اعلان کیا ہے کہ چار یرغمالیوں کو غزہ سے زندہ رہا کرا لیا گیا ہے۔ یرغمالیوں کی رہائی مشکل اور پیچیدہ کارروائی کے بعد ممکن ہوئی جو کہ ہفتے کے روز دن کے وقت کیا گیا۔

کارروائی کے نتیجے میں رہا ہونے والے یرغمالیوں میں نووا ارغمانی، الموگ میر جان، آندرے کوزلوو اور شلوہمی زیو شامل ہیں جنہیں حماس نے سات اکتوبر کو نووا میوزک فیسٹیول سے اغوا کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ چاروں یرغمالی طبی لحاظ سے اچھی حالت میں ہیں۔

رہائی کے حوالے سے اسرائیل فوج کا مزید کہنا تھا کہ ان یرغمالیوں کو دو مختلف جگہوں سے رہا کرایا گیا۔ ان کی رہائی وسطی غزہ کے قصبے نصیرات کے مرکزی حصے سے عمل میں لائی گیی۔

اس سے پہلے صبح کے وقت دیے گئے بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ نصیرات میں اسرائیلی فوج عسکریت پسندوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہ ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے نے X پلیٹ فارم پر اطلاع دی کہ "چار اسرائیلی قیدیوں 25سالہ نوا ارگمانی، 21 سالہ الموا میر،27 سالہ آندرے کوزلوف اورچالیس سالہ شلومی زیو کو بازیاب کرالیا گیا ہے۔ انہیں حماس کے جنگجوؤں نے گذشتہ برس سات اکتوبر کو غزہ کےاطراف میں کیے گئے ایک طوفانی حملے میں یرغمال بنا لیا تھا۔ ان کی صحت بہتر ہے‘‘۔

آپریشن کی ہفتوں سے منصوبہ بندی کی گئی

اسرائیلی فوج کے ایک دوسرے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے کہا کہ سینکڑوں اسرائیلی فوجیوں نے ایک خصوصی آپریشن میں حصہ لیا جس نے غزہ میں اغوا ہونے والے 4 یرغمالیوں کو زندہ حماس سے چھڑا لیا گیا۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ اس کارروائی کی ہفتوں سے منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ اس آپریشن میں ایک اسرائیلی فوجی اہلکار زخمی بھی ہوا ہے۔

جبکہ العربیہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ غزہ سے یرغمالیوں کی بازیابی کی کارروائی کے دوران خصوصی یونٹ کا ایک فوجی مارا گیا ہے۔

حماس کے آگے نہیں جھکیں گے

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ "اسرائیل دہشت گردی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا"۔ انہوں نے غزہ سے چار یرغمالیوں کی رہائی کے بعد جنگ میں فوج کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی افواج نے "یہ ثابت کر دیا کہ اسرائیل دہشت گردی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتا اور وہ جدید انداز میں اور زیادہ جرات کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم آخری یرغمالی کو بازیاب کرانے تک جنگ جاری رکھیں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں