اسرائیل نے فلاڈیلفیا محور پر مکمل کنٹرول کرلیا، غزہ مصر سے الگ ہوگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی اور مصر کو الگ کرنے والے فلاڈیلفیا کے محور پر اپنا کنٹرول مکمل کر لیا۔ اور غزہ کی پٹی کو مکمل طور پر مصری علاقے سے الگ کر دیا۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر رفح میں اپنی دراندازی کو بڑھاتے ہوئے مغرب کی طرف سمندری ساحل کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ اس طرح اس پٹی کو مصر سے الگ کرنے والے پورے صلاح الدین یا فلاڈیلفیا محور پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ 14.5 کلومیٹر طویل راستہ ہے۔

اسرائیلی فوجی گاڑیاں اس وقت رفح شہر کے مغرب میں سمندر کے کنارے الرشید سٹریٹ پر کھڑی ہیں اور ’’سویڈنی گاؤں‘‘میں گھوم رہی ہیں۔ اسرائیلی سنائپرز اونچی عمارتوں کے اوپر موجود ہیں اور علاقے میں جو بھی حرکت کرتا ہے اس پر گولیاں چلا دی جاتی ہیں۔ اسرائیلی ٹینکوں نے رفح کے مغرب میں اپنے حراستی مقامات کے شمالی اطراف سے توپ خانے سے گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

فلاڈیلفیا محور پر اسرائیلی فوجی ٹینکوں کا کنٹرول اسرائیلی فوج کی طرف سے 29 مئی کو غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحدی پٹی کے آپریشنل کنٹرول کے اعلان کے چند دن بعد ہوا ہے۔ فلاڈیلفیا کے پورے محور پر عملی طور پر اسرائیل کے کنٹرول کا مطلب باضابطہ طور پر غزہ اور مصر کے درمیان جغرافیائی تعلق کو منقطع کرنا ہے۔ اب غزہ کی پورٹی پٹی پر اسرائیلی فوج کا محاصرہ مکمل ہوگیا ہے۔

فلاڈیلفیا محور جسے صلاح الدین محور بھی کہا جاتا ہے مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان ایک سرحدی پٹی ہے جو کرم ابو سالم کراسنگ سے بحیرہ روم تک سینکڑوں میٹر چوڑی اور 14.5 کلومیٹر لمبی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں