اسرائیل کو کوئلے کی برآمدات پر ممکنہ پابندی، کولمبیا کی کان کنی کی صنعت مخمصے کا شکار

اسرائیل کو کوئلے کی برآمد سے کولمیبا سالانہ تقریباً 165 ملین ڈالر کماتا ہے، تاحال پابندی کا فیصلہ نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کولمبیا کی نجی کان کنی کی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کولمبیئن حکومت کی اسرائیل کو کوئلے کی برآمدات پر ممکنہ پابندی سے بین الاقوامی معاہدات کی خلاف ورزی ہو گی اور ایسے اقدامات سے مارکیٹ کے اعتماد اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو خطرہ لاحق ہو گا۔

بائیں بازو کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے مئی میں غزہ میں اسرائیلی کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے جس کے بعد بلومبرگ نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ کولمبیا کی وزارتِ تجارت اسرائیل کو کوئلے کی ترسیل پر پابندی لگا سکتی ہے۔

وزارتِ تجارت کے ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا، فی الحال کوئی ایسی قرارداد یا حکم نامہ موجود نہیں جو اسرائیل کو کوئلے کی برآمدات پر پابندی لگائے یا محدود کرے۔

پیٹرو نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر کڑی تنقید کی ہے اور کولمبیا نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے نسل کشی کے مقدمے میں شامل ہونے کی بھی درخواست کی ہے۔

کوئلہ پیدا کرنے والے دنیا کے پانچویں بڑے ملک کولمبیا نے گذشتہ سال 56.7 ملین میٹرک ٹن کوئلہ بیرونِ ملک بھیجا جس میں 3 ملین ٹن اسرائیل کو بھیجا گیا جو حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کوئلے کی کل برآمدات کا تقریباً 5.4 فیصد ہے۔

کولمبیا کی کان کنی ایسوسی ایشن (اے سی ایم) نے ایک بیان میں کہا، "یہ فیصلہ کولمبیا کے بین الاقوامی وعدوں کی تعمیل نہیں کرے گا جن کا احترام ہونا چاہیے اور اس سے مارکیٹوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے اعتماد کو خطرہ لاحق ہے۔"

اسرائیل کولمبیا کے کوئلے کا ایک کلیدی خریدار ہے اور وہاں ہونے والی ترسیل سے کولمبیا کو ٹیکس، رائلٹی اور دیگر مالی مد میں سالانہ تقریباً 165 ملین ڈالر ملتے ہیں۔

اسرائیل اور کولمبیا کے درمیان ایک آزاد تجارتی معاہدہ 2020 سے نافذ العمل ہے اور اے سی ایم کے مطابق یہ دونوں ممالک کے درمیان درآمدات و برآمدات کی پابندیوں کو روکتا ہے۔

ڈرم مونڈ اور گلین کور کولمبیا میں کوئلے کی بڑی نجی کان کن کمپنیاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں